نئی نویلی دلہن

آج كھانا تم بناؤگی ، جس نے پانی کا گلاس اٹھ کے کبھی نہیں پیا تھا ، اسے میری ماں نے حکم دیا ۔

وہ اٹھی ، جیسے تیسے کر کے 3 ، 4 گھنٹے لگائے اور كھانا بنایا مگر نمک مرچ اس ٹیسٹ کے مطابق نہیں تھے جسے پرفیکٹ کہا جاتا ہے۔ اِس لیے كھانا گھر کے کسی فرد نے نہیں کھایا اور طنز کیا ” اپنی ماں کے گھر سے یہ سیکھ کے آئی ہو”

؟میں 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بَعْد گھر آیا ، ابھی بیگ گھر نہیں رکھا تھا کہ میری ماں کہنے لگی ” ہم تو صبح سے بھوکے بیٹھے ہیں ، کچھ بازار سے لا دو كھانے کے لیے” میں نے ایک نظر اپنی سہمی ہوئے بِیوِی پہ ڈالی اور مارکیٹ چلا گیا ۔ كھانا لے کر آیا تو سب کھانے لگے ۔ میں نے اپنی بیگم کا بازو پکڑا اور کچن میں لے گیا ، کیا پکایا ہے آج ؟ اس نے آنسو آنکھوں میں ہی کہیں روکے ہوئے تھے ، میری بات سن کر مسکرا دی .

باقی سب کی طرح تم بازار والا كھانا نہیں کھاؤ گے ؟

نہیں ، مجھے تو اپنی بیٹر ہالف کے ہاتھ کا بنا كھانا پسند ہے۔ اس نے کچن میں میرے لیے كھانا لگادیا ۔ جب میں نے چکھا تو اتنا بھی بد ذائقہ نہیں تھا کہ کھایا نا جاتا ۔ مگر اسے اتنا مارجن ہی نہیں دیاگیا کہ وہ اپنی غلطی ٹھیک کر لیتی . . . . . . . . . . . .

!قصور میری بِیوِی کا بھی نہیں تھا کہ وہ ماسٹرز کر رہی تھی اور شادی ہوگئی ۔ اسے تعلیم نے گھرداری کی فرصت ہی نہیں دی ۔ اور قصور میری ماں کا بھی نہیں تھا جس نے ہاؤس وائف بن کے ساری زندگی اپنے بچون کےلئے ” اچھا كھانا ” بنایا تھا ، پِھر وہ عورت بہو کے ہاتھ کا بنا بدمزہ كھانا کیسے کھا سکتی تھی . . . . . . میں نے اس دن اپنی ماں کی بات بھی مان لی _ بِیوِی کے ہاتھ کا بنا كھانا بھی کھا لیا ۔ میرے ایک عمل نے مجھے اپنی لائف پارٹنر کی نظر میں ہمیشہ کےلئے معتبر کر دیا اور اس ایک محبت بھرے عمل کی وجہ سے آج وہ ہر قسم کی ڈش بنانا سیکھ چکی ہے ۔

اس دن اگر مارکیٹ سے كھانا نا لے کے آتا تو ماں ناراض ہوجاتی اور اگر میں اپنی ماں کی بات سن کر سب کے سامنے اسے ڈانٹ دیتا تو وہ شاید مجھ سے بدگمان ہوجاتی ۔

رشتوں میں بیلنس قائم کریں اور اتنا مارجن ضرور دیں کہ لوگ ایڈجسٹ ھونا سیکھ لیں ، محبت کا جذبہ کبھی نا ختم ہونے دیں کیوں کہ میاں بِیوِی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں اور لباس خراب ہوجائے تو بھرے بازارمیں اتارا نہیں جاتا ، پیوند لگایا جاتا ہے ۔ رشتوں میں بھی پیوند لگائیں۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.