روشنی کا سفر

امام مسجد نے اذان ظہر سے کچھ دیر پہلے، مسجد کی چٹائیاں درست کیں اور پھر صحن میں بنی چھوٹی ٹنکی کی طرف چلے کہ وضو کرکے نماز کی تیاری کریں مگر یہ کیا۔۔۔ نل کھولتے ہی وہ حیرت میں ڈوب گئے۔ ٹنکی بالکل خالی تھی۔ بہرحال انہوں نے جلدی سے ایک بالٹی پانی کنویں سے بھر کر نمازیوں کے وضو کا بندوبست کیا۔

ٹنکی کا خالی ہونا امام صاحب نے ایک اتفاق سمجھ کر نظر انداز کر دیا ،مگر دوسرے دن پھر یہی واقعہ پیش آیا تو امام صاحب کی حیرت کی جگہ غصے نے لے لی۔ انہیں غصہ ان لڑکوں پر آرہا تھا جو صبح امام صاحب کے حکم پر پانی بھرتے تھے۔

’’دیکھو تو ذرا سامنے اتنے باادب اور تمیز دار بنتے ہیں اور مجھ سے اتنا بڑا دھوکہ کہ پانی کی ٹنکی نہیں بھری، کل خبر لوں گا۔ مگر نہیں پانی تو انہوں نے میری نظروں کے سامنے ہی بھرا تھا۔ پھر بھلا دھوکہ کیسے؟‘‘ امام صاحب نے خود ہی اپنے دل میں آئے شک کو ختم کیا

۔امام صاحب کا معمول تھا کہ نماز فجر کے بعد لڑکوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتے اور فارغ ہونے کے بعد لڑکے محلے کے کنویں سے پانی لا کر مسجد کی ٹنکی نمازیوں کے وضو کے لیے بھرتے تھے۔ اگلے دن جب لڑکے قرآن پاک پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے کنویں سے پانی لا کر مسجد کی ٹنکی بھری۔ کچھ دیر بعد امام صاحب نے خود جا کر ٹنکی کا ڈھکن اٹھا کر ٹنکی بھرنے کا اطمینان کیا۔ مگر ظہر سے پہلے ٹنکی حسب معمول خالی ملی۔ اب تو امام صاحب کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ صبح ان کی نظروں کے سامنے بھری جانے والی ٹنکی نماز سے پہلے ہی کس طرح خالی ہوجاتی ہے۔ بالآخر امام صاحب نے معاملے کی تہہ تک پہنچ جانے کی ٹھان لی۔

آج جب ظہر کی اذان سے ذرا پہلے مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی تو امام صاحب فوراً مسجد کی جانب روانہ ہوئے۔ مسجد پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لڑکوں نے وضو کیا۔ چار پانچ صفیں بنائیں۔ نماز کے لیے کھڑے ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکا امامت کے لیے آگے بڑھتا ہے اور تمام لڑکوں کو نماز پڑھا رہا ہے۔ امام صاحب یہ سارا منظر بڑے صبر سے دیکھ رہے تھے اور لڑکوں کی نماز ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے مگر ان کا غصہ آسمان تک جا پہنچا تھا۔ نماز ختم ہوتے ہی انہوں نے لڑکوں کو بازؤں سے پکڑ پکڑ کر مسجد سے باہر نکالنا شروع کیا۔ ساتھ ہی ڈانٹتے بھی جاتے۔ ’’تمیز تو ہے نہیں چلے ہیں نماز پڑھنے، ٹانگیں توڑ دوں گا اگر آئندہ ادھر کا رخ بھی کیا تو۔ ناک میں دم کر دیا ہے۔ سارا ٹنکی کا پانی بھی ختم کر دیتے ہیں اور چٹائیاں الگ خراب کرتے ہیں۔‘

‘امام صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ سے گھبرا کر چند لڑکوں نے اپنے اپنے گھروں کی طرف ڈر کر دوڑ لگادی مگر چند ایک نے تمیز کے ساتھ امام صاحب سے نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی مگر ابھی امام صاحب کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تھا، اس لیے اجازت ملنا تو دور کی بات۔ امام صاحب نے ان کی بات بھی نہیں سنی۔ بچے بظاہر تو خاموشی کے ساتھ سر جھکا کر گھر کی جانب روانہ ہوئے مگر ان کے ذہنوں میں یہ سوال تھا کہ’ ہم نے تو کوئی بدتمیزی نہیں کی صرف نماز پڑھی ہے اور بس۔ پھر امام صاحب کو اتنا غصہ کیوں؟‘

اب پھر سے وہی معمولات تھے۔ فجر کی نماز کے بعد لڑکے قرآن کی تعلیم حاصل کرتے اور فارغ ہونے کے بعد محلے کے کنویں سے پانی لا کر مسجد کی ٹنکی بھرتے اور ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے آنے والے نمازی اس پانی سے وضو کرتے۔ امام صاحب کو بھی اطمینان ہو گیا مگر یہ اطمینان عارضی ثابت ہوا جب ایک دن نماز کی ادائیگی کے بعد امام صاحب گھر کے لیے روانہ ہوئے تو ڈاکیے نے انہیں ایک خط دیا۔ خط پر بھیجنے والے کا نام پتا درج نہ تھا۔ بس قرآن کی ایک آیت لکھی تھی جس کا ترجمہ تھا۔ ’’اور جو لوگ اپنے رب کو دن رات پکارتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو ان کے حساب میں کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں کسی چیز کا بار ان پر نہیں ہے اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہوگے۔‘‘

خط پڑھتے ہی امام صاحب نے سمجھ لیا کہ اس آیت کے ذریعہ کدھر نشاندہی کی گئی ہے اور یہ کس کی حرکت ہو سکتی ہے۔ اس خیال کے ساتھ ہی امام صاحب سیدھا اس لڑکے کے والد کی طرف گئے اور وہ خط انہیں دکھایا۔ ساتھ ہی سارا واقعہ بھی سنایا۔ لڑکے کے والد نے سکون سے ساری باتیں سنیں اور خط کا مطالعہ بھی کیا۔ پھر امام صاحب سے مخاطب ہوئے۔

’’امام صاحب! کیا آپ کے خیال میں پانی اور چٹائیاں اتنی اہم ہیں کہ بچوں کو نماز سے روکا جائے؟ آپ تو سمجھدار نمازی آدمی ہیں۔ آپ کو تو نماز کی بچوں کو تلقین کرنی چاہیے اور باجماعت نماز کا بچوں کو پابند کرنا چاہیے۔ آپ کو تو چاہیے تھا کہ بچوں کے اس نیک عمل پر بچوں کی تعریف کرتے نا کہ انہیں ڈانٹتے اور جہاں تک بات پانی اور چٹائیوں کی ہے اس کا بھی حل ہے۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے بیٹے کو بلوایا۔ بیٹا کمرے میں داخل ہوا تو امام صاحب کو دیکھ کر ایک لمحے کو ٹھٹکا مگر پھر

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *