تباہی نے گھر کے دروازے پر دستک دے دی۔۔ مہمان کا ایسا گناہ جس نے میزبان کا گھر اجاڑ دیا۔سچی کہانی

دنیا کی زندگی عارضی ہے لیکن اسکی خواہشات لامحدود ہیں, انسان کو زندگی میں طلب جسکی زیادہ ہوتی ہے وہ محبت ہے اور محبت انسانی زندگی کا عظیم پہلو ہے, اوربے شک میں مانتا ہوں کہ محبت امر ہوتی ہے, محبت لازوال ہوتی ہے, اسے مارنے والے دابانے والے خود مر جاتے ہیں,محبت کے سمندر میں غرق انسان محبوب کی خواہش پر تاج محل تک تعمیر کروا دیتا ہے۔

لیکن یہ بھی لمحہ فکریہ ہےکہ خواہش تو پوری ہو جاتی ہے لیکن محبت کے راہی اکثر منزل سے محروم رہتے ہیں, بلکہ کبھی کبھی تو محبت نادان کی ایک خطاء, ایک غلطی گھروں کو قبرستان بنا دیتی ہے.سال دوہزار دس کی بات ہے کہ ایک ہستا بستا گھر اسی محبت کی وجہ سے برباد ہو گیا,جی ہاں چیچہ وطنی سے تین کلو میٹر کی مسافت پر ایک چھوٹا سا ٹاؤن ہے جہاں میری اپنی بھی رہائش ہے اور یہ گیارہ سیون آر چک کی اضافی آبادی ہے, میرے والد صاحب نے جہاں گھر لیا وہاں ہمارے گھر کے سامنے ایک رانا فیملی کا گھر تھا, سلیم اور مسز سلیم اپنے آٹھ بچوں کے ساتھ جن میں چھ بیٹیاں اور دو بیٹے تھے اللہ کی عطا کردہ زندگی گزار رہے تھے, سلیم صاحب کا دال چاول کا ہوٹل تھا جو کمالیہ روڑ پر بڑا مشہور تھا, دن کو سلیم ہوٹل پر ہوتا اور رات کو اسکا بڑا بیٹا, صبع آزان کے وقت روزانہ انکے گھر پر چولہا جلنا شروع ہو جاتا اور مسسز سلیم دال چاول تیار کر کے دیتی تاکہ سلیم صاحب ہوٹل پر لے کر جائیں,غریب گھرانہ تھا, لیکن شرم و حیا کا پیکر تھا, کبھی انکی کوئی بیٹی سواۓ سب سے چھوٹی کے دروازے تک آئی نہ دیکھی,دونوں میاں بیوی دن رات اپنے گھر کی ترقی ؤ تعمیر کے لیے کوشاں تھے ,بچے جوان تھے انکی شادی, گھر کی تعمیر, بچوں کی تعلیم, گھر کے اخراجات ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے تھے اور یہ ان دونوں میاں بیوی کی محنت اور آپس کی محبت کی وجہ سے تھا, اکثر سلیم صاحب کی بیوی میری والدہ کے پاس آ جایا کرتی تھی اور کبھی کبھی میری والدہ صاحبہ بھی انکے گھر چلی جایا کرتی تھی کیونکہ دال چاول کے ہوٹل سے سارا نظام زندگی چلانا مشکل تھا لہذا سلیم صاحب کی بیوی اور انکی دو بڑی بیٹیاں کپڑے سلائی کرتیں تھی ,پورا محلہ ان سے کپڑے سلائی کرواتا تھا,وقت گزرتا گیا, دن سے رات اور رات سے صبع روشن ہوتی گئ, انکے گھر کے حالات پہلے سے بدل گے , بڑی بیٹی کی شادی, بڑے بیٹے کی شادی, پھر تیسیری بیٹی کی شادی ہو چکی تھی, کہ اللہ کو کچھ اور منظور تھا, ایک وہ غلطی جو اس گھر کے ایک فرد نے لاشعوری میں کی تھی اس کی وجہ سے تباہی نے گھر کے دروازے پر دستک دے دی, ہوا کچھ یوں کہ اس ہستے بستے گھر میں ایک مہمان لڑکا جو سلیم کی بیوی کے بھائی کا بیٹا تھا مہمان آیا۔

مہمان گھر کے لیے رحمت ہوتا ہے لیکن چند مہمان اپنے کرتوت کی بدولت زحمت بن جاتے ہیں, اس لڑکے کاشف کی دوستی سلیم کے بڑے لڑکے ارشد سے زیادہ ہو گئی وہ ارشد جو رات کو والد کے ہوٹل پر ڈیوٹی دیتا اور دن کو گھر پر سوتا تھا اب اسکا معمول آوراگردگی تھا, لیکن انسان بھول جاتا ہے کہ ‏زندگی کی بساط میں غم کو مات ہو یا خوشی کو چِت، ہارنا زندگی کو ہی پڑتا ہے اور جیت موت کی ہوتی ہے. ‏جنہیں خدا نہیں چاہیئے ہوتا انہیں پھر ہر بری سوچ، شخص اور چیز ڈھونڈھ لیتی ہے, ‏دنیا کی چند روزہ زندگی کے مصائب کو خود پہ اتنا سوار نہ کریں کہ آخرت کی دائمی حیات کو گرہن لگ جائے کیونکہ دنیا کی تکلیف کیسی ہی کیوں نہ ہوئی آخر ختم ہو جائے گی مگر موت کے بعد آپ اپنے لئے کچھ نہیں کر سکیں گے۔ انسان بھول جاتا ہے کہ ‏اللہ سے محبت واحد تجارت ہے جس کا خسارہ بھی نفع دیتا ہے، جس کا نقصان بھی سنوار دیتا ہے، جس میں کمی بھی پورا کر دیتی ہے، جس میں قلت بھی کثرت بن جاتی ہے، جس میں گراوٹ بھی بلند کر دیتی ہے، جس میں کھوٹے سکے بھی دینار بن جاتے ہیں، جس میں تاجر آپ بکتا ہے اور انمول ہو جاتا ہے۔ ارشد بھی بھول گیا کہ ‏کچھ اعتراف کشتیِ جاں پر بوجھ کی مانند ہوتے ہیں انہیں بروقت اظہار کر کے اتار دینا چاہیے تا کہ موت کے کنارے کا سفر آسان ہو جائے۔ ‏سسکتی ہوئی سانسوں اور سلگتی ہوئی جھاڑیوں میں کوئی شور تو نہیں ہوتا مگر چھیڑنے اور جھنجھوڑنے پر جو لاوہ نکلتا ہے سب جلا کر راکھ کر دیتا ہے__ ارشد کی مدد سے یا غیر مدد لیکن اسکے کزن کاشف نے محلے کی ایک لڑکی کو گھر سے بھاگا کر فرار ہو گیا, یہ وہ عمل تھا جسکی وجہ سے با شرم و حیا گھرانے کے دروازے پر ذلت ؤ رسوائی نے دستک, شعور برپا ہو گیا, ہجوم انسان میں کس نے کیا کہا سلیم کو یہ اس وقت کا منظر آسمانی جانتا ہے, لیکن مہمان کے عمل سے بے خبر سلیم اور اسکی بیوی, لیکن با خبر اسکا بیٹا اپنے گھر کی تباہی اب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا, کاشف بے شک لڑکی کو اسکی مرضی سے لے گیا لیکن قیامت ٹوٹ گئ سلیم کے گھر پر, پنچایت ہوئی, سلیم کو طعنے سننا پڑے, لوگوں تلخ سوالوں کے جوابات دینے پڑے, لڑکی کی برادری نے یہاں تک کہا کہ ہم تیری بیٹی لو اٹھا لیں گۓ, سلیم پنچایت سے تو واپس آ گیا لیکن خاموش کبھی کاشف سے رابطے کی کوشش کریں تو کبھی ارشد کی طرف لاچار نظروں سے دیکھتے ہوۓ اپنی شرم و حیا والی بیٹیاں سامنے روتی دکھائی دیں۔

سلیم کی بیوی نے لوگوں کے سامنے قرآن اٹھا کر کہا کہ اسے اور سلیم کو کچھ پتہ نہیں لیکن وہ انکے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے لیکن لڑکی کے خاندان والے بھی لوگوں کی باتوں سے تنگ خاموش کھڑے تھے, آخر کار پنچایت سے ملنے والے دو دن کی مہلت کو غنیمت سمجھتے ہوئے سلیم نے اپنے آباد گھر کو رات کی تاریکی میں ویران کر دیا اور خاموشی سے اپنے بچوں کو ہجرت کروا دی, اور خود نا کردہ گناہ کی سزا کے لیے رک گیا, ادھر کی بیوی بچوں کو لے کر جا چکی تھی محفوظ مقام پر لیکن گھر بے دخل, لوگوں کی باتیں, عزت کو ذلت میں بدلتا دیکھ کر اپنے حواس کھو گئ, ہارٹیک کی وجہ سے موت ہو گئ, ارشد ماں کی موت, بہن ؤ بھائی کے بے گھر, باپ کی عزت خاک ہوتے دیکھ کر سکتہ میں جاچکا تھا, سلیم نے بیوی کی وفات پر حوصلے سے اللہ کی آزمائش کو برداشت کیا, بیوی کو دفنایا, اور لڑکی کی تلاش میں نکل گیا, آخر تین کی کوشش سے لڑکی والوں کو لڑکی واپس کی, ہاتھ جوڑ کر معذرت کی, گھر کو فروخت کیا اور دکھی دل سے خود بھی ہجرت کر گیا, یہ ایک مہمان کی غلطی سے, دنیاوی محبت سے پیدا ہونے والی صورت حال جو خطرناک کہانی کا رخ اختیار کر گئ یہ سبق دیتی ہے کہ ‏دوسروں کو پڑھنے اور سمجھنے کی بجائےخود اپنی ذات کو سمجھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے_ ‏اللہ سے ہر وقت عافیت اور رہنمائی مانگتے رہنا لازم ہے کیونکہ بسا اوقات پھانسی کے پھندے پر بھی پھول لپٹے ہوئے ہوتے ہیں. انسانی ‏شخصیت کی نشوونما اس وقت رُک جاتی ہے جب آدمی خُود کو کامل سمجھتا ہے۔‏‎ایک انسان کو بہترین انسان بناتا ہی اسلام ہے. ‏اچھے مسلمان کا مطلب ہی اچھا انسان ہےلیکن اچھے انسان ہونے کی حتمی نشانی یہ ہے کہ آپ عمدہ مسلمان ہوں اور آپ کا خاتمہ بالایمان ہوا ہو ورنہ کفر کی زندگی اور موت بظاہر کیسی ہی اچھی کیوں نہ ہو اللہ کے نزدیک آپ بدترین انسان ہیں کیونکہ آپ اللہ کے بندے نہ بن سکے۔ حالات جیسے بھی ہوں اپنے بچوں کی پرورش دین اسلام کی روشنی میں کریں تاکہ آپکے بچوں کی ایک غلطی, ایک خطاء کسی کے گھر کی بربادی کا باعث نہ بن جاۓ. یاد رکھو کہ ‏شدید دکھ اور انتہائی خوشی یہ دو حالتیں بڑی دھوکہ باز ہیں مگر ان کے لئے جو اللہ کی حکمتوں پر بھروسہ رکھتے ہیں کیونکہ دل کی حالت تو بدل جاتی ہے لیکن دل کی حقیقت نہیں بدلتی۔ ,لیکن ‏‎دونوں حالتوں میں صبر اور شکر ڈھال ہیں…. ‏بری عادتوں میں سے ایک بری عادت ہے کہ اپنے مطلب کی بات دماغ میں بٹھا کر، دماغ کو تالا لگا کر چابی نگل لیتے ہیں اور کچھ بھی سمجھنے سے عاری ہو جاتے ہیں_ ‏جس طرح قلی کا سامان کسی اور کا سامان ہوتا ہے۔ اس دنیا میں کچھ بھی کسی کی ملکیت نہیں ۔۔۔!!

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.