بے اولا د لڑکی ایک لڑکی کی شادی کو 7 سال کا عرصہ بیت گیا۔ مگر وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھی۔۔؟

ایک لڑکی کی شادی کو 7 سال کا عرصہ بیت گیا۔ مگر وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھی۔ اسکے خاندان ، دوستوں میں، جتنی بھی اسکے ساتھ کی لڑکیاں تھیں سب کوئی 2 کوئی 3 اور کوئی 4 بچوں کی ماں بن چکی تھیں۔حتیٰ کہ اسکے سسرال میں اسکی نند، دیور جنکی شادیاں اسکے بعد ہوئیں وہ بھی اب صاحب اولاد ہو چکے تھے۔جہاں ہر وقت اسے لوگوں کی اور سسرال والوں کی چبھتی نظروں اور چبھتے سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ وہیں وہ خود بھی ہر پل اپنی سونی گود کی وجہ سے دکھی اور پرشان رہتی۔ اسکی رپورٹس میں بھی ڈاکٹروں نے تقریباً نا امیدی ظاہر کی۔ جس پر ہر وقت وہ دکھی رہنے لگی۔

مگر دل میں ایک امید بھی رہتی کہ الله سے بڑا کوئی ڈاکٹر نہین۔وہ چاہے تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔کبھی بہت زیادہ دل اداس ہوتا تو چھپ کر اپنے کمرے میں جی بھر کر رو لیتی۔کوئی بھی اسکی تکلیف کو نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ وہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے خود کتنی تکلیف اور اذیت سے گزر رہی ہے۔۔سسرال والے تو باتیں کرتے ہی تھے مگر سسرالی رشتہ دار ہمسائیوں کی باتیں جل تی پہ تیل کا کام کرتیں۔اور اسکی ساس وہ باتیں بعد میں کر دیتیں کہ دل چاہتا وہ مر جائے۔ یا کہیں دور چلی جائے ان لوگوں سے۔پھر وہ ہر نماز میں رو رو کر بس الله سے ایک ہی فریاد کرنے لگ گئی کہ وہ اسے اولاد کی نعمت سے نواز دے۔

وقت گزرنے کے ساتھ جب اسکی دیورانی کے ہاں چوتھے بچے نے جنم لیا تو ساس کے طعنوں میں اور شدت آ گئی۔کہ یہ تو بانجھ ہے۔ میرا بیٹا بے اولاد رہے گا۔ پھر وہ وقت آیا کہ گھر میں اسکے شوہر کی دوسری شادی کی بات ہونے لگی۔ایک دن وہ اپنے دیور کے بچے کو گود میں لے کر پیار کر رہی تھی کہ نہ جانے اسکے دل کو کیا ہوا۔وہ بچے کو وہیں لٹا کر اپنے کمرے میں آئی اور ایسا روئی کہ سب گھر والے جمع ہو گئے۔ اسکے دل کی حالت سمجھے بنا سب یہ سوچنے لگے کہ یہ دیور کے بچوں سے جلتی ہے۔

حسد کرتی ہے۔ مگر ان جاہلوں کو کون سمجھاتا کہ الله نے تو اسکو ایسا دل دیا ہی نہیں جو کسی سے جلنے والا ہو۔ وہ تو ان لوگوں میں سے تھی جو اپنی خوشیاں بھی کسی اور کی جھولی میں ڈال دیں۔ جو اپنے منہ کا نوالا دوسروں کے منہ میں ڈال دیں۔وہ تو بچے کو پیار کرتے وقت اپنی سونی گود سے اس قدر دلگرفتہ ہوئی تھی کہ خود پہ قابو نہ رکھ سکی کہ آج اسکے آنسو بھی سب بند توڑ کر بہنے ۔واحد ایک اسکے شوہر تھے جنہوں نے اسکو کبھی طعنہ نہیں مارا تھا۔ایک دن کس نے کہا کہ اپنے شوہر کے ٹیسٹ بھی کرواؤ۔پہلے تو اس بات پہ بہت ہنگامہ ہوا بٹ پھر اسکے شوہر نے ہی کہا کہ کروانے میں کیا حرج ہے۔

الله کی کرنی کہ جب رپورٹ آئی تو وہ ٹھیک تھی۔ پھر تو گھر میں ایک طوفان آ گیا کہ بس اب اسکو فارغ کرو۔ ہم تمہاری دوسری شادی کریں گے۔ لیکن میرے شوہر کسی صورت مجھے طلاق دینے کو تیار نہ ہوئے۔اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ شادی کر لیں۔ مگر وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا تھا۔ سو کسی صورت نہ مانا۔ایک دن کسی نے ایک پیر کا کہا کہ وہ بڑا پہنچا ہوا پیر ہے۔اس سے اپنی بہو کو الله الله کرواؤ ۔ جب اسکی ساس نے بات کی تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ چاہے آپ جو مرضی کر لیں۔ بے شک گھر سے نکال دیں لیکن کسی پیر کے پاس نہ جائے گی۔

اس پر اسکی ساس نے بہت لعن طعن کی۔اس نے وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑی ہو گئی۔ جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ایسی رقت طاری ہوئی کہ کچھ بولا نہ جائے۔ پھ سجدے میں گر کر الله سے فریاد کی۔یا الله اگر تو نے مجھے بے اولاد رکھنا تھا تو تو نے مجھے اس دنیا میں عورت کے روپ میں کیوں بھیجا۔ عورت تو پوری ہی اولاد سے ہوتی ہے پھر میرے وجود کو ادھورا کیوں رکھا۔ یا الله ساری دنیا کے ڈاکٹر چاہے جو مرضی کہتے رہیں۔ مجھے بس تیرا ہی آسرا ہے۔

یا الله میری وجہ سے میرے شوہر کو اس تکلیف اس محرومی سے نہ گزار۔یا الله تو تو ہر چیز پہ قادر ہے۔ تو نے حضرت مریم علیہ اسلام کو بنا مرد کے شوہر کے ماں کے مقام پہ کھڑا کردیا۔ اور ان سے اپنے محترم نبی کو بنا باپ کے پیدا فرمایا۔یاالله تجھے حضرت مریم کا واسطہ مجھے صالح اولاد کی نعمت عطا۔ یا الله اولاد کے بنا میں ایک ادھوری عورت ہوں۔ یا الله مجھے پورا کردے۔ یا الله مجھے پورا کر دے۔یاالله حضرت مریم کے بنا شوہر کے اولاد ہو سکتی ہے تو میرے کیوں نہیں۔ میرا تو شوہر بھی موجود ہے۔اس رات سجدے میں رو رو کر اس نے ایسی فریاد کی کہ اسکی آہ و بکا سن کر کائنات کی ہر چیز اسکی شائد سفارشی بن گئی۔ اور الله پہ اسکا بھروسہ جیت گیا۔

اور چند ہفتوں بعد وہ ہوا جسکی کسی کو امید بھی نہ تھی۔ڈاکٹر بار بار اسکی رپورٹس دیکھ رہے تھے۔ پھر اسکو زندگی کی نوید سنائی گئی کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ بنا کسی کی پرواہ کیے وہ یہ سنتے ہی ہاسپٹل کے فرش پہ ہی سجدہ ریز ہو گئی۔اس لیے چاہے کچھ بھی ہو جائے کبھی بھی کسی بھی حالات میں مایوس مت ہوں۔ الله بڑا کارساز ہے۔ لوگ کچھ بھی کہیں۔ بس الله پہ بھروسہ رکھیں

 

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *