برائی کا سد باب

کہتے ہیں ایران کا مشہور بادشاہ نوشیرواں، جو اپنے عدل و انصاف کے باعث نوشیروان عادل کہلاتا تھا۔ ایک بار شکار کے لیے گیا شکار گاہ میں اس کے لیے کباب تیار کیے جار ہے تھے۔ کہ اتفاق سے نمک ختم ہو گیا شاہی باورچی نے ایک غلام سے کہا کہ قریب کی بستی میں جا اور وہاں سے نمک لے آ۔

بادشاہ نے یہ بات سن لی۔ اس نے غلام کو قریب بلایا اور سے تاکید کی کہ قیمت ادا کیے بغیر نمک ہر گز نہ لانا۔ غلام بولا، حضور والا! ایک ذرا سے نمک کی کیا بات ہے۔ کسی سے مفت لے لوں گا تو کیا فرق پڑے گا۔

نوشیرواں نے کہا ضرور فرق پڑے گا۔ یاد رکھو! ہر برائی ابتدا میں ایسی ہی معمولی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن پھر وہ بڑھتے بڑھتے اتنی بڑی بن جاتی ہے کہ اسے مٹانا آسان نہیں ہوتا ہے

۔بغیر حق کے جو سلطاں کرے وصول اک سیب

غلام اس کے جڑوں سے اکھیڑ لیں گے درخت

جو بادشاہ کبھی مفت پانچ انڈے لے

سپاہی اس کے کریں گے ہزار مرغ دولخت

وضاحت

حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ درس دیا ہے کہ کسی بھی برائی کو معمولی خیال نہیں کرنا چاہیے۔ معمولی برائی ہی بڑھ کر بہت بڑی برائی بن جاتی ہے۔ خاص طور پر حکمرانوں کو تو اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط بر تنی چاہیے۔ کیونکہ ان کے ماتحت برائی میں ان کی تقلید زیادہ کرتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.