”ایک انتہائی خوبصورت عورت اپنے شوہر کی اجازت سے ایک“

نیک اور عبادت گزار شخص کو بہکانے کے لیے چلی جاتی ہے اس کو اپنے حسن پر بڑا ناز ہوتا ہے جب کہ اس کے شوہر کو اس نیک شخص کے تقویٰ اور پر ہیز گاری پر بڑا یقین ہوتا ہے دونوں میاں بیوی میں شرط لگ جاتی ہے و ہ مو لا نا اس عورت کے حسن کو دیکھ کر ہی ۔۔!کسی زمانے میں ایک خوبصورت عورت تھی جس کو اپنے حسن پر بڑا ناز تھا

وہ ایک مرتبہ نہانے کے بعد کپڑے بدل کر اپنے بال سنوار رہی تھی آئینے کے سامنے کھڑی تھی اور اپنے آپ پہ بہت فریفتہ تھی کہ میں بہت حور پری ہوں خاوند کو جب دیکھا تو اس سے بڑے ناز نخرے سے بات کی کہ ہے کوئی ایسا مرد جو مجھے دیکھے اور میری تمنا نہ کرے تو خاوند نے کہا کہ ہاں ہے ایک ایسا مردعبید بن عمیر ۔

یہ مسجد نبوی میں مدرس اور خطیب تھے میاں بیوی کا تعلق عجیب سا ہوتا ہے آگے سے کہنے لگی تو دے مجھے اجازت میں تجھے دیکھاتی ہوں وہ پھسلتا کیسے ہے اس نے کہا کہ ٹھیک ہے میں اجازت دیتا ہوں۔ عورت کو اجازت مل گئی اور وہ نکلی پھر مسجد کے دروازے پر آکر کھڑی ہو گئی اب جب مو لا نا عبید بن عمیر رحمتہ اللہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر نکلے تو عورت نے پہلے اس طریقے سے بات کہی جیسے کوئی مسئلہ پو چھنے کے لیے کھڑی ہو تو مو لا نا کھڑے ہو گئے اس دوران اس نے اپنے چہرے سے نقاب کو ہٹا دیا اس کا خیال یہ تھا۔

کہ جب وہ میرے حسن و جمال کو دیکھیں گے تو فریفتہ ہو جا ئیں گے جیسے ہی اس نے ایسا کیا تو انہوں نے نظر ہٹا دی اور کہا دیکھو کیوں ایسے کام کے بارے میں سوچتی ہو جس سے تمہیں دنیا میں بھی ذلت ملے گی اور آخرت میں بھی ذلت ملے گی یہ الفاظ ان کے منہ سے اتنے درد سے نکلے کہ وہ شر ما گئی اور واپس آگئی شو ہر نے پو چھا کیا بنا؟ کہنے لگی کیا مرد ہی نیک ہوتے ہیں؟ کیا عورتیں نیک نہیں ہو سکتیں۔ میں بھی نیک بنوں گی اسکی تو زندگی ہی بدل گئی تھی اس کے بعد وہ ہر روز اپنے خاوند سے عشاء کے وقت پو چھتی کہ کیا تمہیں میری ضرورت ہے اگر کہتا تو وہ وقت خاوند کے ساتھ وقت گزارتی اور اگر وہ کہتا کہ نہیں تو جبا پہن لیتی اور ساری رات مسلے پہ عبادت کرتی اس کا خاوند کہا کر تا تھ اپتا نہیں عبید بن عمیر نے ایک فقرہ بو ل کر میری بیوی کو نیک کیسے بنا دیا۔ تو یہ کیفیتیں ان کی اس لیے تھیں کہ پروردگارعالم نے ان کے دلوں میں ایک اثر ڈالا ہوا تھ ایمان کامل ان کے دلوں میں تھا اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نیک اور صالح مسلمان بننے کی توفیق عطا فر ما ئے آمین۔

 

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *