آپکو اللّٰه چاہیئے یا اسکی بنائی ہوئی چیزیں

ایک ملک کے بادشاہ نے یہ اعلان کروایا کہ کل صبح جب میرے محل کا دروازہ کھولا جائےگا تب جس شخص نے بھی محل کی جس جیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اسکی ہوگی اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے پہلے قیمتی جیز کو ہاتھ لگاؤنگا کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤنگا کچھ لوگ ہیرے جواہرات کچھ ہاتھی گھوڑے کی بات کرنے لگے جب صبح ہوئی تو محل کا دروازہ کھولا گیا

اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑنے لگے سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تا کہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جائے بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ہو رہی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا اسی وقت بھیڑ سے ایک شخص بادشاہ کی طرف چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچا اور اس نے بادشاہ کو چھو لیا بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی بادشاہ کی ہر چیز بھی اسکی ہوگئی جس طرح بادشاہ نے ان لوگوں کو موقعہ دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کییں۔

بلکل ٹھیک اسی طرح تمام دنیا کا مالک بھی ہم سب کو ہر روز موقعہ دیتا ہے لیکن افسوس ہم لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں ہم اللّٰه کو پانے کی بجائے اللّٰه کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے مالک کو پا لیا جائے اگر مالک ہمارا ہوگیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر جیز بھی ہماری ہو جائگی۔

سوچئے گا ضرور

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.