وہ جگہ چھوڑ دو جہاں تمہاری 2 چیزوں کی قدر نہ ہو۔

حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہر وقت لوگوں کی عزت و ناموس اچھالنے کی ٹوہ میں لگا رہتا ہو اس سے کنارہ کشی کرو۔ورنہ تمہاری عزت کو بھی باتوں کے چسکے میں داؤ پہ لگادے گا۔قربان جاؤں اس خدا پر ،جوانسان کو دکھ دیتاہے لیکن اس کی برداشت کے مطابق اور خوشی دیتا ہے اس کی اوقات سے بڑھ کر ۔

حضرت علی ؓ کے پاس ایک عیسائی اور یہودی آئے اور آپ کو لاجواب کر نے کے لئے سوال کیا۔اے علی ؓ یہ بتاؤ وہ کونسی چیز ہے جو ہم تو دیکھتے ہیں پر اللہ نہیں دیکھتا؟ آپ کہتے ہو قرآن میں ہر چیز کا علم ہے تو وہ کیا ہے جو قرآن میں نہیں ہے ؟ باب العلم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اللہ خواب نہیں دیکھتاکیونکہ اس کو نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ دوسرا یہ کہ قرآن میں سب کچھ لکھا ہے پر جھوٹ نہیں لکھا۔

کسی کو تم دل سے چاہو اور وہ تمہیں ٹھکرا دے تو وہ اس کی بدنصیبی ہے تمہاری نہیں ۔ ایک یہودی نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ تمہارا اللہ نظر کیوں نہیں آتا؟حضرت علی ؓ نے کہا کہ تم سورج کو غور سے دیکھو؟اس نے کہا میں اس کو نہیں دیکھ سکتا۔حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ تم سورج کو دیکھ نہیں سکتے تو سورج بنانے والے کو کیسے دیکھ سکو گے۔؟

برائی کی مثال ایسی ہے جیسے پہاڑ سے نیچے اتر نا ایک قدم اٹھاؤ توباقی اٹھتے ہی چلے جاتے ہیں؟اور اچھائی کی مثال ایسے ہی ہے جیسے پہاڑ پر چڑھنا ہر قدم پچھلے قدم سے مشکل مگر ہر قدم پر بلندی ملتی ہے!کسی کا ظرف دیکھنا ہو تو اسے عزت دو۔فطرت دیکھنا ہوتو اسے آزادی دو۔نیت دیکھنی ہو تو اسے قرض دو۔خصلت دیکھنی ہوتو اس کے ساتھ کھانا کھاؤ۔صبر دیکھنا ہو تو اس پر تنقید کر کے دیکھ لو۔خلوص دیکھناہو تو اس سے مشورہ لو۔

اگر کوئی شخص اپنی بھوک مٹانے کے لئے روٹی چوری کرے تو چور کے ہاتھ کاٹنے کی بجائے بادشاہ کے ہاتھ کاٹے جائیں۔بے قرار سے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں اور انسان کی سب امیدیں پوری ہونے والی نہیں ہیں۔جو فضول خرچی پر فخر کرتا ہے وہ مفلس ہو کر ذلیل ہوتا ہے۔

وہ جگہ چھوڑ دو جہاں تمہاری دو چیزوں کی قدر نہ ہو:1۔تمہارے احساس کی .،2: تمہارے الفاظ کی چاہے وہ کسی کا گھر ہو یاکسی کا دل۔اپنے گھروں سے مکڑیوں کے جالے دور کرو کیونکہ انہیں(گھروں میں لگاہوا)چھوڑدینا ناداری کا باعث ہوتا ہے۔

انسان کو اچھی سوچ پہ وہ انعام ملتا ہے جو اسے اچھے اعمال پہ بھی نہیں ملتا کیونکہ سوچ میں دکھاوا نہیں ہوتا ۔ اپنے وہ نہیں ہوتے جو رونے پر آتے ہیں اپنے وہ ہوتے ہیں جو رونے ہی نہیں دیتے ۔برائی کرنے والا کسی کے ساتھ نیک گمان نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ ہر ایک کو اپنے جیسا خیال کرتا ہے۔ انسان کے آنسو اس وقت مقدس ہوتے ہیں جب وہ کسی اور کے دکھ اور تکلیف کو محسوس کر کے نکلیں۔غربت انسان کو اپنے ہی شہر میں اجنبی بنادیتی ہے۔

لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام اس طرح بنالو کہ مرجاؤ تو تمہارے لئے روئیں اور زندرہ ہو تو تم سے ملنا پسند کریں۔ دل کو قابو میں رکھنا اور اختیار ہونے کے باوجود ناجائز خواہشات پر عمل نہ کرنا یہی اصل مردانگی ہے۔ صرف دو لوگ مقدر والے ہوتے ہیں ایک وہ جنہیں وفادار دوست ملتا ہے اور دوسرے وہ جن کے ساتھ ماں کی دعائیں ہوتی ہیں۔

بارش کا پانی پیو کہ وہ بدن کو صاف کرتا ہے بیماریوں کو اور دردوں کو بدن سے نکال دیتا ہے ۔غصہ کو پی جاؤ کہ نتیجہ کے لحاظ سے میں نے اس سے میٹھا اور اختتام کے لحاظ سے اس سے لذیذ گھونٹ نہیں دیکھا ہے۔ تن چیزیں انسان کو اللہ سے دور کرتی ہیں۔1۔اپنے اعمال کو زیادہ سمجھنا۔2۔ اپنے گناہوں کو بھول جانا۔3۔اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھنا۔

قبرستان ایسے نوجوانوں سے بھرے ہوئے ہیں جو بڑھاپے میں توبہ کرنے کے خواہشمند تھے۔ اگر لوگ تم سے متاثر ہو رہے ہیں تو تکبر نہ کرو شکر ادا کرو اپنے رب کا جس نے تمہارے عیب چھپا کر تمہیں لوگوں میں معزز بنارکھا ہے۔

خالق سے مانگنا سنت ہے اگردے دے تو رحمت ،نادے تو حکمت مخلوق سے مانگنا ذلت ہے۔اگر دے دے تو احسان،نادےتو شرمندگی۔ ایک شخص سے محبت انسان کو کتنا مجبور کر دیتی ہے میں نے زندگی میں کسی کی پروا نہیں کی اور اب ایک شخص کی پروا کی ہے تو مجھے احساس ہوا کہ محبت کرنے کے بعد بندے کو کتنا جھکنا پڑتا ہے صرف اس خوف سے کہ کہیں ہم اس شخص کو کھو نہ دیں۔شکریہ

 

 

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *