میرے بھائی کی شادی ایک بڑی عمر کی عورت سے ہو گئی

ملیحہ کو جو بھی دیکھتا دیکھتا ہی رہتا تھا چار بھا ئیوں کی اکلو تی بہن تھی اس کے سب ناز نخرے اٹھاتے تھے وہ اتنی پیاری تھی کہ اس کی ماں کہتی تھی کہ اس کی شادی کسی شہزادے سے ہوگی۔ ملیحہ کی سہیلیاں اس کی ہم عمر تھی اور اس سے جلتی بھی تھی ملیحہ دل کی صاف لڑ کی تھی وہ کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہیں کرتی تھی

ملیحہ کی ماں نے کہا کہ شکوران خالا آ ئی ہے دوپٹہ اوڑھ کر آ نا شکوران حالا کے ساتھ ایک خاتون اور ایک لڑ کی بھی موجود تھی ملیحہ سلام کر کے اپنی ماں کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی وہ عورت اور لڑ کی ملیحہ کو دیکھ رہی تھی تھوڑی دیر بعد ماں نے ملیحہ کو جانے کا اشارہ کیا وہ معذرت کرتی ہوئی کمرے سے باہر آ گئی ملیحہ کو دیکھنے والی یہ چوتھی فیملی آ ئی تھی ملیحہ کی ماں چاہتی تھی کہ جلد ہی ملیحہ کو کوئی اچھا رشتہ مل جائے اور وہ اپنے گھر چلی جائے شکورن حالا نے کہا کہ بہت اچھی فیملی ہے اور لڑ کا بھی بہت اچھی نوکری کر تا ہے۔ وہ لوگ جاتے ہوئے ملیحہ کو پسند کر گئے بس وہ لڑ کے کا انتظار کر رہے تھے وہ کیا چاہتا ہے لڑ کے کا نام رفاقت تھا اور اس نے ملیحہ کی تصویر کو دیکھ کر قبول کر لیا رفا قت بہت خؒوش تھا جب ملیحہ کے گھر والوں نے بہت سارا جہیز دیا ملیحہ کے محلے والے برات دیکھ کر کہہ رہے تھے کہ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی شہزادہ ملیحہ کو لینے آ یا ہے جب ملیحہ دلہن بنی تو قیامت ڈھار رہی تھی جب ملیحہ رخصت ہوئی تو گھر سونا ہو گیا سرخ رنگ کے فراک میں ملیحہ پری لگ رہی تھی ملیحہ رفاقت کے گھر آ ئی تو رفاقت کہنے لگا کہ مجھے سمجھ نہیں آ تی لڑ کیاں اتنا میک اپ اور اتنا زیور کیوں پہنتی ہیں ملیحہ اسی وقت واش روم میں گئی

اور پنا منہ دھو کر آ گئی ملیحہ نے اپنا سارا زیور اتار کرڈبے میں پیک کر دیا۔ رفاقت بہت غصے سے ملیحہ کے ساتھ بات کرنے لگا رفاقت اپنے مو با ئل میں مصروف ہو گیا اور ملیحہ بھی سو گئی رفا قت کو احساس ہی نہیں تھا کہ وہ میری دلہن ہے اور آج شادی کی پہلی رات ہے۔ صبح جب رفاقت اٹھا تو وہ صحن میں جا کر اپنے بھتیجے اور بھتیجیوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہو گیا ساس اور سسر کہنے لگے کہ بہو خوب صورت ہے لیکن نخرے والی تھوڑی دیر بعد رفاقت نے آواز دی کے اندر آؤ مجھے کوئی بات کر نی ہے۔ رفاقت نے کہا کہ تم اتنا زیادہ میک اپ نہیں کیا کرو۔ اور پرفیوم بھی نہیں لگا یا کرو۔ ملیحہ نے سوچ لیا کہ اس شہزادے کے لیے مجھے سب کچھ چھوڑ نا پڑ ے گا ا یک دن ملیحہ کی ماں اس کو لینے کے لیے آ گئی مگر رفاقت ملیحہ کو کہنے لگا کہ اتنی اپنی ماں کے گھر رہی ہوں کبھی دل نہیں بھرا ۔ رفاقت جب بھی اپنے آفس جاتا تو کہتا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو میرے دوست بھی اپنی بیگم کو ساتھ لے کر آتے ہیں لیکن مجھے یہ اچھا نہیں لگتا تھا کہ میں باہر کسی غیر مر رد کے ساتھ بات بھی کرو۔ رفاقت کا سلوک پہلے دن سے ہی اچھا نہیں تھا لیکن ملیحہ نے اپنی ماں کو کبھی بھی کچھ نہیں بتا یا تھا وہ کہتی تھی کہ واقعی رفاقت کوئی شہزاہ ہے۔ اس نے مجھے بہت خوش رکھا ہوا ہے لیکن جب وہ اکیلی ہوتی تو وہ اپنی قسمت پہ روتی تھی ۔

کچھ دن میرا بھائی مجھے چھوڑنے میرے سسرال چلا گیا رفاقت نے یرے بھائی کو بھی بہت ہی باتیں کہیں کہ گھر کا کوئی کام نہیں کرتی سارا دن سوئی رہتی ہے میرا کوئی خیال نہیں کرتی میری ماں بوڑھی ہے اس کا بھی کوئی خٰال نہیں رکھتی میں نے شادی اس لے تو نہیں کی تھی کہ یہ سارا دن یہاں پر سوئی رہے۔ رفاقت نے مجھے کچھ دن بعد طلاق دے دی اور طلاق کے کاغذت میرے ہاتھ میں دیےا ور مجھے اپنی ماں کے گھر چھوڑ آیا۔ میری سہیلیاں بھی مجھ پر باتیں کرنے لگیں کہ اتنا غرور کرتی تھی تم اپنے حسن پر لیکن اتےنے حسین کا کیا فائدہ کیا تم کو تمہارے شوہر نے طلاق دے کر گھر بھیج دیا طلاق کا داغ بہت برا تھ امجھے طرح طرح کی باتیں سننی پڑتی تھیں۔ دو سال ہو گئے مجھے میرے ماموں کے گھر پر رہتے ہوئے۔ اپنے ماں باپ کے گھر کبھی نہیں گئی کیو نکہ میں جب بھی وہ آ جاتی تو مجھے اپنے پرانے دن یاد آتے تھے میری ماں میرے لیے طلاق یافتہ لڑکا ڈھونڈنے لگی کہ میری بیٹی کا گھر بس جائے۔ ایک دن میرے ماموں نے میری ماں کو فون کیا اور کہنے لگا کہ آپ کی اجازت ہو تو میں اپنے بیٹے کی شدی آپ کی بیٹی سے کردو تو میری ماں کہنے لگی کہ آپ میرے بڑے بھائی ہیں آپ جیسا کریں گے ویسا ہی ہمیں قبول ہو گا۔ مجھے اپنی ماں کا فیصلہ قبول کر نا پڑا اور اپنی ماں اور اپنے ماموں کی عزت رکھ لی۔ شادی کے بعد میں نے اسکول میں پڑ ھا نا چھوڑ دیا اور گھر میں رہتی تھی اپنی مامی کے ساتھ گھر کا کام کرتی اللہ نے مجھے ایک بیٹا دیا بہت ہی پیارا تھا اور آہستہ آہستہ مجھے اپنی زندگی سے پیار ہونے لگا۔ اور میں اپنے بیٹے اور شوہر کے ساتھ اچھی زندگی گزارنے لگی۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.