بادشاہ کو لونڈی کی ضرورت تھی دولونڈیاں آئیں کہنے لگیں بادشاہ حضور ہمیں خریدلیں

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک بادشاہ کو لونڈی کی ضرورت تھی ، اس نے اعلان کیا کہ مجھے ایک لونڈی درکار ہے اس کا اعلان سن کر اس کے پاس دو لونڈیاں آئیں اور کہنے لگیں بادشاہ حضور ہمیں خرید لیں ۔ ان دونوں میں سے ایک کا رنگ کالا تھا اور ایک کا رنگ گورا ۔ بادشاہ نے کہا کہ مجھے ایک لونڈی دو نہیں گوری بولی تو پھر مجھے خرید لیجئے ۔ حضور کیونکہ گورا رنگ اچھا ہوتا ہے ۔ کالی بولی حضور رنگ تو کالا ہی اچھا ہوتا ہے آپ مجھے خریدیے۔

بادشاہ نے ان کی یہ گفتگو سنی تو کہا اچھا تم دونوں اس موضوع پر مناظرہ کرو کہ رنگ گورا اچھا ہے یا کالا جو جیت جائیگی میں اسے خرید لونگا۔دونوں نے کہا بہت اچھا چنانچہ دونوں کا مناظرہ شروع ہوا اور کمال یہ ہوا کہ دونوں نے اپنے رنگ کے فضائل ودلائل عربی زبان میں فی البد یہ شعروں میں بیان کیے ۔ یہ اشعار عربی زبان میں ہیں مگر مصنف نے ان کا اردو زبان میں منظوم ترجمہ کیا ہے لیجئے آپ بھی پڑھیئے اور غور کیجئے کہ پہلے زمانے میں لونڈیاں بھی کس قدر فہم گوری بولی موتی سفید ہے اور قیمت ہے اس کی لاکهوںاور کوئلہ ہے کالا پیسوں میں ڈهیر پالےبادشاہ سلامت ! موتی سفید ہوتا ہے، اور کس قدر قیمتی هوتا ہے، اور کوئلہ جو کہ کالا ہوتا ہے کس قدر سستا ہوتا ہے

کہ چند پیسوں میں ڈهیر مل جاتا ہےاور سنیےاللہ کے نیک بندوں کا منہ سفید ہوگا،اور دوزخی جو ہونگے،منہ ان کے هونگے کالےبادشاه سلامت اب آپ ہی انصاف کیجیے گا کہ رنگ گورا اچها ہے یا نہیں؟بادشاہ گوری کے یہ اشعار سن کر بڑا خوش ہوااور پهر کالی سے مخا طب ہوکر کہنے لگا. سنا تم نے؟؟ اب بتاو کیاکہتی ہو؟؟کالی بولی حضورہےمشک نافہ کالی قیمت میں بیش عالی،ہے روئی سفید اور پیسوں میں ڈهیر پالی کستوری کالی ہوتی ہے، مگر بڑی گراں قدر اور بیش قیمت مگر روئی جع کہ سفید ہوتی ہے، بڑی سستی مل جاتی ہے اور چند پیسوں میں ڈهیر مل جاتی ہےاور سنیےآنکهوں کی پتلی کالی ہے نور کا وہ چشمہ،اور آنکهہ کی سفیدی ہے نور سے وہ خالی بادشاه سلامت اب آپ ہی انصاف کیجیے کہ رنگ کالا اچها ہے یا نہیں؟؟

کالی کے یہ اشعار سن کر بادشاہ اور بهی زیادہ خوش ہوا اور پهر گوری کی طرف دیکها تو فورا بولی کاغذ سفید ہیں سب قرآن پاک والےکالی نے جهٹ جواب دیااور ان پہ جو لکهے ہیں قرآں کے حرف کالےگوری نے پهر کہا کہ میلاد کا جو دن ہے روشن وہ بالیقیں ہےکالی نے جهٹ جواب دیا کہ معراج کی جو شب هے کالی هے یا نہیں ہے؟؟ گوری بولی کہ انصاف کیجیے گا، کچهہ سوچیے گا پیارے! سورج سفید روشن، تارے سفید سارےکالی نے جواب دیا کہہاں سوچیے گا آقا! ہیں آپ عقل والے،کالا غلاف کعبہ، حضرت بلال کالےگوری کہنے لگی کہ رخ مصطفے ہے روشن دانتوں میں ہے اجالاکالی نے جواب دیااور زلف ان کی کالی کملی کا رنگ کالابادشاہ نے ان دونوں کے یہ علمی اشعار سن کر کہا. کہ مجهے لونڈی تو ایک درکار تهی مگر میں تم دونوں ہی کو خرید لیتا ہوں۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.