کیا انسان کو خود کی نظربھی لگ سکتی ہے؟ اسلام اس کےبارےمیں کیا کہتا ہے؟

وائرل میڈیا نیوز! کیا انسان کو خود کی نظربھی لگ سکتی ہے؟ اسلام اس کےبارےمیں کیا کہتا ہے؟ اسلام کے اوّل میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے عرب کے ان لوگوں کی خدمات لینے کا ارادہ کیا جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے ہیں

ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اور ان بدنیتوں کے تمامحربے ناکام ہوگئے۔ ان کی اس شرانگیزی کو قرآن میں اس طرح سے بیان کیا ہے کہ وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ اور بے شک کافر لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ آپ کو اپنی (حاسدانہ بد) نظروں سے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے۔ الْقَلَم، 68: 51 اس آیت میں نظرِ بد میں نقصان کی تاثیر ہونے کا اشارہ ہے جو کسی دوسرے انسان کے جسم و جان پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ الْعَيْنُ حَقٌّ وَ نَهَی عَنِ الْوَشْمِ.نظر کا لگ جانا حقیقت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔ بخاري، الصحيح، 5: 2167، رقم: 5408، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة۔مسلم، الصحيح، 4: 1719، رقم: 2187، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي۔أحمد بن حنبل، المسند، 2: 319، رقم: 8228، مصر: مؤسسة قرطبةحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں

کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ کَانَ شَيْئٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا. نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے (نظر کے علاج کے لیے) غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کر لو۔مسلم، الصحيح، 4: 1719، رقم: 2188ابن حبان، الصحيح، 13: 473، رقم: 6107، بيروت: مؤسسة الرسالةنظر بد کے برے اثرات ہوتے ہیں۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظر بد سے بچاؤ کے لئے جھاڑ پھونک یعنی دم درود کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دم کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:رُخِّصَ فِي الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ وَالْعَيْنِ.رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین چیزوں کیلیٔے جھاڑ پھونک کی اجازت دی:نظر بد،بچھو وغیرہ کے کاٹے پر،پھوڑے پھنسی کے لئے۔مسلم، الصحيح، 4: 1725، رقم: 2196أحمد بن حنبل، المسند، 3: 118، رقم: 12194ترمذي، السنن، 4: 393، رقم: 2056، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربيب۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.