وجہ خاتون خانہ ، مگر کیسے ؟

نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھارت میں ایک میاں بیوی گزشتہ 3سال میں 18بار گھر تبدیل کر چکے ہیں اور اس کی وجہ ایسی ہے کہ سن کر آپ کے لیے ہنسی روکنا مشکل ہو جائے گا۔انڈیا ٹائمز کے مطابق ان میاں بیوی کا تعلق ریاست مدھیاپردیش کے شہر بھوپال سے ہے۔ بیوی کاکروچوں سے اس قدر ڈرتی ہے کہ جس گھر میں اسے ایک بار کاکروچ نظر آ

جائے، اس گھر میں رہنے سے انکار کر دیتی ہے جس پر بیچارا شوہر گھر تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس جوڑے کی شادی 2017میں ہوئی تھی اور تب وہ مسلسل گھر تبدیل کرتے آ رہے ہیں۔تاہم اب شوہر اپنی بیوی کے اس خوف سے عاجز آ چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’’اب میں تنگ آ چکا ہوں اور اپنی بیوی کو طلاق دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں کیونکہ میں اب مزید

لوگوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہو سکتا۔پہلی بار شادی کے چند ماہ بعد 2018میں میری بیوی نے کچن میں ایک کاکروچ دیکھ لیا اور اس قدر چیخ و پکار کی کہ ہمارے ہمسائے بھی ہمارے گھر جمع ہو گئے۔ اس کے بعد اس نے کچن میں جانے سے انکار کر دیا اور ضد پکڑ لی کہ ہم گھر تبدیل کریں۔ اب کے بعد سے ہم 18بار گھر تبدیل کر چکے ہیں۔میں اسے کئی ماہرین نفسیات کے پاس بھی لیجا چکا

ہوں لیکن اس کا کاکروچوں کاخوف جانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔‘‘دوسری طرف بیوی نے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ الٹا اسے ذہنی مریض قرار دینا چاہتا ہے۔متحدہ عرب امارات میں عدالت نے سہیلیوں کے ساتھ باہر گھومنے کے لیے جانے کی اجازت نہ دینے پر غیر ملکی خاتون کی جانب س طلاق کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔عرب

نیوز کے مطابق غیرملکی خاتون نے عدالت میں اپنے شوہر سے طلاق کی درخواست دائر کی تھی جس میں خاتون نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ گھومنے کے لیے باہر جانا چاہتی ہے لیکن اس کا شوہر اجازت نہیں دے رہا ہے اور اس کے علاوہ وہ اس مطالبے پر مجھ سے بدسلوکی کا نشانہ بھی بناتا ہے۔دوسری جانب غیرملکی خاتون کے شوہر نے اپنے دفاع میں کہا کہ اپنی بیوی کے

ساتھ کبھی بدتمیزی نہیں کی اور بیوی کے ساتھ بیٹے کے لیے بھی مناسب رہائش کا بندوبست کررکھا ہے اس کے علاوہ ماہانہ خرچ بھی وقت پر دیتا ہوں جب کہ بیٹے کی معذوری کے باعث ہم دونوں کا ہر وقت اس کے پاس رہنا بہت ضروری ہے۔خلیجی عدالت نے خاتون کی جانب سے طلاق کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خاتون عدالت کے سامنے شوہر کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی لہذا

خاتون کی جانب سے طلاق کا مطالبہ مسترد کیا جاتا ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ غیر ملکی خاتون یہ بھی واضح نہیں کرسکی وہ شوہر کی جانب سے باہر جانے پر روکنے سے اسے کیا نقصان ہوگا اور ایسا کرنے سے اس کی زوجیت کیوں ختم کی جائے۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔

۔ صرف ’’افطار پارٹی‘‘ ہی دنیا بھر میں مسلمانوں کی وہ واحد تقریب ہے جوہمیشہ وقت مقررہ پر کسی بھی ’’وی وی آئی پی‘‘ یا ’’ وی آئی پی‘‘ کا انتظار کئے بغیر شروع ہوجاتی ہے۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.