میں لائیو یوٹیوب پر نقاب پہن کر لڑکوں سے باتیں کرتی تھی ایک دن بازار گئی

آپ کو ایک معصوم لڑکی پر بیتی دکھ بھری سچی کہانی سنانے جارہے ہیں۔ آج میری زندگی کا بہت اہم انسان آرہا تھا وہ انسان جس کے نام سے منسوب ہوکر میں پچھلے سالوں پانچ سالوں سے منتظر تھی وہ انسان جس نے زمانے بھر سے ٹک۔ر لے کر مجھے اپنا بنایا تھا۔ عارف مجھ سے نکاح کرنے کے چند روز بعد اپنی تعلیم مکمل کرنے کی غرض سے بیرن ملک جا بسا تھا آج پھر سے پانچ سال بعد میرے گھر آرہا تھا ۔ میں بے حد خوش تھی ۔ میری اس ذلت بھری زندگی سے جان چھوٹ جائیگی ۔ میں آرام سے بیاہ کے شہزادیوں کی طرح رہوں گی ۔

جب اچانک گھر کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو حسب توقع سامنے عارف کھڑا تھا۔ میں نے اس کے سرپر ہاتھ رکھا اور اسے اندر لے آئی وہ ہمیشہ سے بڑامودب ثابت ہوا تھا خاموشی سے مہمان خانے آکر بیٹھ گیا ۔گھرپر اماں کے علاوہ ابا بھی موجود تھے ۔ لیکن بیماری کیوجہ سے وہ بستر ہوکر رہ گئے تھے ۔میں عارف کیلئے چائے لے کر آئی تو ہمارے درمیان رسمی سلام دعا کا تبادلہ ہوا۔ اس کے بعد وہ چائے پیتے میری جانب بہت گہری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جن کے ساتھ میں مزید سمٹ جایا کرتی تھی لیکن آ ج اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا احساس تھا۔

نہ جانے وہ کیا تھا جسے میں سمجھ نہیں پائی مجھے دیکھتے ہی ایک دم بولا آنٹی سنا ہے آپ کی بیٹی شعر بہت اچھے پڑھتی ہے ۔میں بھی سننا چاہتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہوتو عارف کی یہ بات کہنے کی دیر تھی کہ ایک دم چونک سی گئی مگر میں نے جذبات کو قابو کرتے ہوئے کہا نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔اماں نے میری جانب دیکھا اور بولی بیٹی تمہارے شوہر ہے کوئی فرمائش کررہاہے تو پوری کردو اماں کی بات سن کر میرا دل مٹھی میں آگیا

عارف کی نظریں متواتر میرے چہرے پر مرکوز تھیں جیسے وہ میرے چہرے کے تاثر ات پڑھ رہا ہو کچھ کھوج رہا ہو میں نے نگاہیں جھکا لیں شعر پڑھنے لگی عارف دل ہی دل میں ناجانے کیا سوچ رہا تھا کیونکہ شعر ختم ہوجانے کے چند منٹ تک وہ کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا۔ اماں کے پکڑنے پر ایک دم چونک کر اماں کی جانب دیکھنے لگا اور ساتھ ہی مجھے بہت داد دی لیکن اس کا داد دینے کا انداز بلکل ایسے تھا جیسے کسی بازاری عورت کے حسن کی تعریف کی جاتی ہو ۔

اب میں روز اپنی آنکھوں کو خوبصورت میک اپ سے سجا کرصرف سکاف تللے چھپاتی اور اپنے چہرے کو بھی نقاب میں چھپالیتی پھر فیس بک پر لوگوں سے ایسی باتیں کرتیں جو کسی عزت دار کے گھرانے کی لڑکی نہیں کرتی ۔ شروع شروع میں مجھے بے حد ج۔ھج۔ھک محسوس ہوتی آہستہ آہستہ یہ میری زندگی کا حسہ بننے لگا ۔ پھر میں نے ایک یوٹیوب چینل بھی بنا لیا جس پر اپنی ہی لگالیا کرتی تھی ۔ میں لوگوں کو گانے سناتی کئی نوجوان لڑکوں کیلئے شعر پڑھا کرتی ۔ ہزاروں لوگ مجھے داد دیتے ۔ ہر ایک آ نکھوں اور آواز کا دیوانہ تھا۔

آہستہ آہستہ میری شہر ت بڑھنے لگی ۔ میرے فینز کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں میں ہو گئی اس مقام تک آنے میں اچھی خاصی محنت کی تھی لیکن یہ میں بھول گئی تھی کہ آج کل ہر انسان جدید ٹیکنا لوجی سے متعارف ہو چکا ہے۔ کہیں کوئی اپنا مجھے پہچان نہ لے کبھی کبھی دل چاہتا کہ یہ سب چھوڑ دوں مگر میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ میرے ماں باپ کا اچھا علاج ہونے لگا میں کسی طور یہ سب چھوڑ نہیں سکتی تھی۔جن بہنوں کے بھائی جیتے جی م۔ر جائیں وہ ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

دن ہفتوں ہفتے سالوں میں گزر گئے کئی بار دل میں خیال آ تا کہ اگر عارف کو اس سب کے بارے میں معلوم ہو گا تو میرا کیا بنے گا کہ وہ دن آہی گیا کہ عارف کے سامنے میرا یہ راز کھل گیا میرا جی چاہتا تھا کہ زمین پھٹے اور میں اس میں غ۔رق ہو جاؤں لیکن ہم جیسے گ۔ناہ گاروں کی زندگی اتنی آسانی سے کہاں تمام ہوتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا تھا کئی دن عارف کے دئیے ہوئے پیسوں کے ساتھ ک۔ٹ گئے میں وہ رقم استعمال نہیں کر نا چاہتی تھی لیکن میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

آہستہ آہستہ وہ ختم ہو گئی مجھے پھر سے اس کیمرے اور مو بائل کا سہارا لینا پڑا میں روز خود کو ملا مت کر تی لیکن پھر مجبور ہو کر وہی گ۔ناہ کر بیٹھتی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ میرا یہ گ۔ناہ میرے گلے کا ط۔وق بن جائے گا۔ ایک روز مجھے گھر کا سامان لینے باہر جا نا پڑا میری چادر سوکھنے کے لیے ڈالی ہوئی تھی۔ تمہارے چہرےسے کوئی غرض نہیں ہے یہ سب کہتے ہوئے وہ میرے آنکھوں پر ٹ۔ارچ پر لگائے مجھے گ۔ھور رہا تھا۔

وہ بالکل پاگل لگ رہا تھا۔ میرے ابا کا ان۔ت۔ق۔ال ہو گیا تھا۔ اماں بھاگتی ہوئی میرے پاس آئی اور مجھے بری طرح پ۔ی۔ٹ۔ن۔ے لگی کہاں چلی گئی تھی تو تیرے باپ تیری یاد میں م۔و ت کے منہ میں چلا گیا اماں کی حالت دیکھ کر مجھے خود پر غصہ آ نے لگے۔تھوڑی دیر میں محلے والے بھی جمع ہو گئے مجھے سوالیہ نگاہ۔وں سے دیکھ رہا تھا ظاہر ہے مجھے لوگوں کے اس سوال کا بھی جواب دینا تھا ۔کہ رات کے اس پہر گھر سے باہر گ۔زار کر کہاں سے آئ ہوں میرے ابا کی چارپائی اٹھا کر قب۔رستان کی طرف لے جا ئی جا رہی تھی۔ اور میں وہیں زمین پر بیٹھی زارو قطار خاموشی سے آ نس۔و بہا رہی تھی

اما ں مجھے روتے ہوئے پ۔ی۔ٹ۔ت۔ے ہوئے وہاں سے اٹھا کر کمرے میں لے آئیں انہوں نے مجھے بتایا کہ رات کو ابا کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور تم گھر پر نہیں تھی کھانستے کھانستے ان کی ج۔ان نکل گئی یہ کہہ کر اماں پھر سے رونے لگی تو کہاں چلی گئی تھی اماں نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا ہم ماں بیٹی پھ۔وٹ پھ۔وٹ کر رونے لگے ایک ماں ہی بیٹی کے دل کا حال سمجھ سکتی ہے اماں نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا پھر ابا کی م۔وت کو چند دن ہی گزرے تھے کہ محلے والوں نے ہمیں نکال دیا۔ وہ ایک گھر ہی ہمارا واحد سہارا تھا۔ ہم نے وہ گھر بی۔چ دیا اور دوسرے گاؤں میں کرائے کے مکان میں رہنے لگے۔

یہ راز آ ج تک دل میں محفوظ ہے کہ رات کو کیا ہوا تھا ۔میرے بھائی کو میں نے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ میں ہر وقت اپنے اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ کہ میرے گ۔ناہوں کو معاف کر دے ۔ میں نے نئے محلے میں اپنی جان پہچان بنا لی ہے میں کیسے بھول سکتی تھی کہ بے شک ساری دنیا ہمیں چھوڑ دے لیکن اللہ کبھی نہیں چھوڑتا اب میں نے اپنے رب کا سہارا لیا ہے میں محلے کے بچوں کو قرآن پڑھاتی ہوں ۔

اور باقی وقت اپنے گھر کے کاموں اور اماں کی خدمت میں گزارتی ہوں۔ شاید اللہ نے مجھے معاف کر دیا تو پھر محلے کے لوگ ہماری عزت کرتے ہیں لیکن ایک بات آپ سب سے پو چھنا چاہتی ہوں کہ کیا مجھے اس رات کا راز اپنی ماں کو بتا دینا چاہیے یا پھر زندگی اسی طرح خاموشی سے چلتی رہے جیسے کچھ سالوں سے چل رہی ہے

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.