ایک تھی نیلوفر

اس وقت سورج جیسے سروں پر موجود تھا‘ہر طرف آگ برس رہی تھی گرمی کی شدت کی وجہ سے لوگ باہرنکلنے سے گریز کررہے تھے اور گھروں میں دروازے کھڑکیاں بند کیے بیٹھے تھے ایسے میں لوڈشیڈنگ ہونا کسی عذاب سے کم نہ تھا جن لوگوں کے گھروں میں جنریٹر اور یوپی ایس جیسی سہولتیں موجود تھیں وہ سکون میں تھے اور وہ بیچارے جو اس نعمت سے محروم تھے گرمی سے بلبلا رہے تھے۔

میں جلدی جلدی کام نبٹارہی تھی کام والی ماسی نذیراں صفائی کررہی تھی میرے بچے سکول گئے ہوئے تھے اور شوہر آفس جا چکے تھے اس لیے اس وقت میں اکیلی ہی گھر میں ہوتی تھی۔ ”باجی کچھ سنا آپ نے؟“میں بریانی کے چاول چولہے پر رکھ رہی تھی تبھی مجھے اپنی پشت پر نذیراں کی آواز سنائی دی میں چونک کے پلٹی۔ ”کیا؟بتاؤ گی تم تو پتاچلے گانا․․․․“اور مڑکر چاول میں نمک ڈالنے لگی۔ ”وہ جی آپ کے سامنے والے فلیٹ میں ایک عورت شفٹ ہوئی ہے نا․․․․“اس نے پھر بات ادھوری چھوڑ کر تجسس کو ہوادی۔ ”ہاں جانتی ہوں پھر․․․․․کیا ہوا ہے اسے؟“ میں یونہی مصروف انداز میں گویا ہوئی مجھے اس کی باتوں میں ویسے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی تھی بس اس کا دل رکھنے کو سن لیتی تھی۔ ”ارے باجی وہ پاگل عورت ہے کچھ عجیب سی۔“اس نے آنکھیں پھیلا کر پھر سے سسپنس پھیلایا۔ ”کسی سے بات نہیں کرتی نہ ہی ملتی ہے۔“ ”اُف نذیراں ایک تو تم مفروضے بہت قائم کر لیتی ہوابھی بیچاری دو دن پہلے ہی تو یہاں شفٹ ہوئی ہے اس کی کسی سے جان پہچان نہیں ہے اور پھرکچھ لوگ ہوتے ہی تنہائی پسند ․․․․․جو زیادہ لوگوں سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتے۔ وہ بے چاری بھی ایسی ہو گی اورتم نے اسے پاگل کہنا شروع کر دیا۔“میں نے اسے تاسف سے دیکھتے ہوئے کہا اور بچوں کے لیے ٹینگ بنانے لگی ایک تو شدید گرمی اور پھر نذیراں کی باتیں اُف․․․․․․ ”نہیں باجی میں اپنے پاس سے نہیں کہہ رہی․․․․․وہ فرید ہ باجی ہیں ناں․․․․․جن کے گھر میں کا م کرتی ہوں وہ بھی یہی کہہ رہی تھی کہ یہ عورت کچھ عجیب سی ہے میں نے آپ کو بتانا اس لیے ضروری سمجھا کہ وہ آپ کے بالکل سامنے رہتی ہے۔

آپ کا بچوں کا ساتھ ہے اور پھر اکثر آپ گھرمیں اکیلی ہوتی ہو۔“اس نے پھر سے مجھے ڈرایا۔ ”افوہ نذیراں لگتاہے تمہیں گرمی لگ رہی ہے چلویہ ٹینگ پیو۔“میں نے ایک گلاس ٹینگ اس کی طرف بڑھایا اس نے میرے ہاتھ سے گلاس لے کر ایک ہی سانس میں خالی کردیا اور بولی۔ ”اچھا باجی میں چلتی ہوں۔“

”خدا حافظ۔“کہہ کر میں نے دروازہ بند کرنے سے پہلے ایک نظر سامنے والے فلیٹ پر ڈالی وہاں مکمل سکون چھایا ہوا تھا اور دروازہ بند تھا۔ میں سر جھٹک کر نذیراں کی باتوں پر مسکراتی ہوئی اندر آکر بریانی دم پر رکھنے لگی بچے بس آنے والے تھے میں نے جلدی جلدی رائتہ اور سلاد تیارکیا تبھی بچے بھی آگئے

۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *