گھر بیٹھے آن لائن ہزاروں روپے کمانے کا فراڈ٬ ایک ایسی کہانی جو ہر کسی کے لیے سبق

کہانی تو شاید عام سی ہے لیکن ہر کہانی کسی دوسرے کے لیے سبق سیکھنے کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ حمزہ کا تعلق اوکاڑہ سے ہے اور کئی دیگر طالب علموں کی طرح خواب یہی ہے کہ جلد از جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو تاکہ والد کا بوجھ کم ہو سکے۔ حمزہ لاہور کے ایک مقامی کالج میں کچھ جزوی سکالر شپ پر اپنی پڑھائی کر رہا ہے لیکن کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اپنے خاندان پر مزید بوجھ بننے کی بجائے ان کی مدد کرنا چاہتا تھا۔

حمزہ کے کئی سینئر اور دیگر دوست مختلف مہارتوں میں طاق ہیں اور کچھ نہ کچھ کما رہے ہیں۔ انہی سے متاثر ہو کر اس نے بھی مختلف فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بنائے، کئی کسٹمرز کو پروپوزل بھیجے، جو ریجکیٹ ہو گئے تو حمزہ نے فری لانسنگ سے متعلق کچھ سوشل میڈیا گروپس جوائن کر لیے اب وہاں کی تو دنیا ہی الگ تھی، لگتا تھا کہ پیسے پیڑ پہ اگتے ہیں اور حمزہ کو یہ آس لگ گئی کہ وہ اپنے خواب پورے کر سکتا ہے۔ اس نے ایک اشتہار دیکھا کہ صرف سوشل میڈیا پر اشتہار پوسٹ کریں اور ہر پندرہ دن بعد پچیس ہزار روپے کمائیں۔  اس نے میسج کر کے طریقہ کار پوچھا تو اس کو رجسٹریشن کا کہا گیا کہ ایک ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر دو ہزار روپے بھیج کر رسید کی فوٹو بھیجی جائے۔ پندرہ دن میں پچیس اور مہینے کے پچاس ہزار کمانا تو اس کی امید سے بڑھ کر تھا۔ پچاس ہزار کی امید پر اسے دو ہزار کی انویسٹمنٹ کچھ زیادہ مشکل نہ لگی۔ اب رجسسٹریشن کے بعد اگلے مرحلے میں اس کو روزانہ ایک اشتہار بھیجا جانے لگا، جو اس نے روزانہ کی بنیاد پر فیس بک کے کم از کم تیس گروپوں میں کاپی پیسٹ کرنا ہوتا تھا اور شرط یہ تھی کہ گروپ کے اراکین کم از کم دس ہزار ہوں۔ حمزہ نے اپنی اصلی فیس بک پروفائل سے لاتعداد گروپوں میں پوسٹنگ شروع کر دی اور اشتہار وہی پرانا کہ گھر بیٹھے ہزاروں روپے کمائیے۔ اب اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ وہ نا چاہتے ہوئے بھی ایک فراڈ نیٹ ورک کا حصہ بن رہا ہے۔ اس کو انہی پوسٹوں کی وجہ سے میسنجر پر میسج آنا شروع ہوئے۔

وہ جواب دیتا کہ دیے گئے نمبر پر رابطہ کریں۔ ہفتہ گزرنے کے بعد ان میسجز کی وجہ سے اس کو فراڈیہ کہا جانے لگا اور کئی لوگ اس کو برا بھلا کہتے پائے گئے۔ جب تسلسل سے یہ سب ہونا شروع ہوا تو وہ گھبرا گیا اور لوگوں سے پوچھا کہ وہ کیوں ایسا کہہ رہے ہیں؟ پتا چلا کہ جو اشتہار وہ گروپوں میں پوسٹ کر رہا تھا، اس پر موجود نمبر اور ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہولڈر اسی طرح آن لائن کام کا جھانسہ دے کر ہر کسی سے مختلف رقوم رجسٹریشن کے نام پر وصول کر چکا ہے۔ اب حمزہ پریشان تھا، ایک تو روزگار کی طرف سے جو امید بندھی تھی وہ ٹوٹ گئی، دوسری طرف یہ ڈر الگ تھا کہ اگر ان تمام متاثرین میں سے کسی ایک نے بھی حمزہ کی شکایت سائبر کرائم سیل میں کر دی تو کیا ہو گا کیونکہ ایک دو لوگوں نے اس کی پوسٹ کے سکرین شاٹ بھیج کر اسے دھمکایا تھا اور گروپ میں بھی سکرین شاٹس پوسٹ کر کے اسے جعلساز اور فراڈیا کہہ رہے تھے کہ وہ رقم ہڑپ کرنے میں برابر کا شریک ہے۔ اب حمزہ نے جب اس بندے سے رابطہ کرنا چاہا، جس کے توسط سے وہ یہ کام کر رہا تھا تو اس نے فیس بک ڈی ایکٹویٹ کر رکھی تھی۔ تصویر نام یا پتا کچھ اس کے پاس موجود نہیں تھا۔ ایزی پیسہ اکاؤنٹ کسی اور کے نام پر تھا (اور شاید یہی اس واردات کا مرکزی کردار تھا کیونکہ ساری رجسٹریشنز کے پیسے وہاں جا رہے تھے) ۔حمزہ نے ان تمام متاثرین سے یہی کہا کہ اگر انہیں کسی سے جواب طلبی کرنی ہے تو اسی ایزی پیسہ اکاؤنٹ کے مالک کو ڈھونڈیں کیونکہ وہ بھی اس سب سے برابر متاثر ہوا ہے نا صرف پیسے اور وقت کی بربادی بلکہ اس نے بھروسہ کرتے ہوئے یہ سب اپنی ذاتی پروفائل سے کیا تھا، جہاں اس کی تمام معلومات موجود تھیں اور حلقہ احباب بھی موجود تھا۔ یہاں جو غلطیاں حمزہ سے ہوئیں وہ یہ تھیں کہ بنا کسی مہارت کے فری لانسنگ کے اکاؤنٹس بنائے۔ دوسری بار بنا کسی ریسرچ یا تصدیق کے ایک گمنام آئی ڈی کے جھانسے میں آ گیا۔ یہ سچ ہے کہ آپ آن لائن پلیٹ فارمز سے گھر بیٹھے کمائی کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے فائیور ، اپ ورک اور اس جیسے دیگر مستند ذرائع موجود ہیں، جہاں آپ کے پاس فری لانسرز اور کلائنٹس کی تصدیق شدہ معلومات موجود ہوتی ہیں نیز ان کی ادائیگی اور لین دین کے معاملا ت کی شفافیت کا ریکارڈ بھی پبلک ہوتا ہے۔

لیکن ان پلیٹ فارمز پہ کام کرنے کے لئے آپ کے پاس کسی نہ کسی مہارت کا موجود ہونا بہت ضروری ہے جیسے ایڈیٹنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، بلاگنگ،گرافک ڈیزائننگ اور بے شمار دیگر مہارتیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوویڈ اور لاک ڈاؤن میں کئی لوگوں نے ان ذرائع سے کمایا ہے اور کئی نامور پاکستانی اپنی فری لانسنگ مہارتوں کی بدولت عالمی طور پر ایک نام کما چکے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آنے والے دور میں ان شعبوں سے متعلقہ تعلیم بے حد ضروری ہے کیونکہ جو نصاب ہم گزشتہ ستر برس سے پڑھ رہے ہیں وہ اگلی نسل کی نوکریوں اور کاروبار کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس لئے اپنی اولاد کے موبائل یا لیپ ٹاپ کے شوق پہ جلنے کڑھنے کی بجائے انہیں ان شعبوں میں ٹریننگ دلوائیں۔ بات آن لائن فراڈ کی چلی ہے تو آن لائن شاپنگ کے متاثرین کے دکھ سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ جہاں تصویر اور ویڈیوز میں پراڈکٹ اور دکھائی جاتی ہے اور ڈیلیوری میں تھرڈ کلاس چیز بھیجی جاتی ہے ۔ اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ آرڈر کرنے سے پہلے پراڈکٹ پیج کی ہسٹری کھنگال لی جائے۔

پرانے اکاونٹس، زیادہ فالوورز اور سب سے بڑھ کر ریویوز کا آپشن پیج پر موجود ہونا اس بات کی تصدیق ہے کہ وہ سہی طرح پروفیشنل لین دین کرتے ہیں۔ فراڈ اکاونٹس میں ایڈریس، ای میل، فون نمبر، ریویو اور کامنٹ سیکشن میں تصویر اپلوڈ کرنے کا آپشن موجود نہیں ہوتا کیونکہ لوگ وہاں پہ گھٹیا پراڈکٹ کا کچا چٹھا کھول سکتے ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھ کر آپ اپنی محنت کی کمائی بچا سکتے ہیں لیکن سب سے مظلوم طبقہ تو ہمارے ہاں وہ ہے، جو آن لائن لٹ بھی جائے تو اپنا دکھ دنیا کو نہیں بتا سکتا۔  ہمارے بعض سادہ لوح تو فیس بک، ٹویٹر، یہاں تک کہ لنکڈ ان تک کو ڈیٹنگ ایپ سمجھ لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پہ موجود سرکٹی، ہاتھوں اور پاؤں والی حسیناؤں کی پروفائلز دیکھ کر ان کے عشق میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ ان کے اپنے دوست ہی زنانہ فیک آئی ڈی بنا کر ان کی ترسی ہوئی خصلت کے مزے لے رہے ہوتے ہیں یا کوئی اور جعلساز پردے میں رہ کر ایزی لوڈ اور دیگر وارداتوں کا مرتکب ہوتا ہے۔ بہرحال یہ سب ہی فراڈ کے زمرے میں آتا ہے لیکن ان سب سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ایسا کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے تحقیق اور تصدیق ضرور کریں کہ ان پلیٹ فارمز یا پروفائل پر موجود معلومات درست ہوں تاکہ مالی اور جذباتی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ کوئی بھی رقم ٹرانسفر کرنے سے پہلے اپنے انٹرنیٹ کے ماہر کسی دوست سے مشورہ ضرور کر لیں۔

 

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.