نااہلوں نے ہاتھ جوڑ لیے پاؤں پکڑ لیے،کوئی منہ نہیں لگاتا تو کوئی فون نہیں اٹھاتا،پاکستان کے گرے لسٹ میں رہنے پر مریم نوازکا ردعمل

لاہور(آن لائن)مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھے جانے پر کہا ہے کہ نااہلوں نے اعداد و شمار کا ہیر پھیر کرکے دیکھ لیا۔ ہاتھ جوڑ لیے پاؤں پکڑ لیے۔کوئی منہ نہیں لگاتا تو کوئی فون نہیں اٹھاتا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹمیں انہوں نے کہا تیسرے سال بھی پاکستان پوری طرح گرے لسٹ میں جکڑا ہوا ہے۔

سیلیکٹڈ کی نا گھر میں عزت ہے نا باہر!۔ مریم نواز کے جواب میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ چچا 25ارب کی منی لانڈرنگ میں ضمانتی اور ملکہ جعلساز گھٹیا پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں ،پچھلے 2سال پاکستان نے فیٹف کمپلائنس میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں شہباز گل نے نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ منی لانڈرنگ کے7نقاطی فیٹف ایکشن پلان پر عمل کرکے گرے لسٹ سے نکلیں گے،اورملک کو لوٹ کر باہرجائیدادیں بنانے والوں کوانجام تک پہنچائیں گے۔ واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر مکمل عملدرآمد کیا،پاکستان کی کارکردگی قابل تعریف ہے، پاکستان تاحال کئی شعبوں میں ایف اے ٹی ایف کے عالمی سطح کے معیارات پر مؤثر عمل درآمد میں ناکام رہا ہے، منی لانڈرنگ کے خدشات اب بھی بہت زیادہ ہیں، جو کرپشن اور منظم جرائم کے خطرات ہیں، ایف اے ٹی ایف پاکستانی حکومت کے ساتھ ان شعبوں میں کام کررہا ہے جہاں بہتری کی ضرورت ہے،ہم تمام ملکوں کو برابر سمجھتے ہیں،پاکستان کو تمام 27 اہداف حاصل کیے بغیر گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ اعلامیہ کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکوس پلیئر نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ اجلاس میں کئی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوںنے بتایاکہ گھانا نے گرے لسٹ کے حوالے بہتر کام کیا ہے اور اس کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے.انہوںنے کہاکہ پاکستان بدستور نگرانی میں رہے گا، پاکستانی حکومت نے انسداد دہشت گردی فنانسگ نظام کو مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے بہتر کام کیا ہے۔صدر ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر کام کیا ہے تاہم ایک پوائنٹ پر کام کرنا ضروری ہے۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.