””میں روزانہ 33 مرتبہ یہ کلمات پڑھتا ہوں قرض بھی اتر گیا اور آج کروڑوں کا مالک ہوں““

””میں روزانہ 33 مرتبہ یہ کلمات پڑھتا ہوں قرض بھی اتر گیا اور آج کروڑوں کا مالک ہوں““

کچھ لوگ اس وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہیں کہ ہمارے اوپر قرض بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ اور ا س کی ادائیگی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ کوئی اسباب نظر نہیں آتے۔ بڑے پریشان ہیں۔ اللہ پاک جنہیں ہر پریشانی کا کوئی نہ کوئی حل یا علاج ضرور بتایا ہےاور اللہ والوں نے اس کے تجربے بھی کیے ہیں۔ اللہ کے حکم کی تجربے کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ اس نیت سے نہیں کرتے کہ اس کا تجربہ کریں۔ وہ یقین سے کرتےہیں۔ جب یقین سے کرتے ہیں اس کا رزلٹ سوفیصد درست نکلتا ہے۔ اس کو عام تجربہ بھی کہہ لیتےہیں۔ ان کا یہ طریقہ نہیں ہوتا کہ آزمایاہوا بلکہ ان کا سو فیصد یقین ہوتا ہے۔ آپ نے بھی سو فیصدیقین سے عمل کرنا ہے۔ انشاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ آپ کا قرضہ کیسےختم ہوجائےگا۔ کیسے اتر جاتا ہے کیسے ختم ہوجاتا ہے۔ آپ کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔ اللہ پاک قرضے کی ادائیگی کے انتظامات فرمادیں گے۔ آپ نے کیا کرنا ہے؟ ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ “لا الہ اللہ محمد رسول اللہ ” کلمہ طیبہ کا ورد کرنا ہے۔اس سے پہلے آ پ نے نما ز کے بعد آپ تسبیح کرتےہیں۔

جس کو تسبیح فاطمہ کہتے ہیں۔ 34مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ الحمداللہ اور 33 سبحان اللہ ۔ اس کو تو آپ پڑھیں۔ اس معمول کو نہیں چھوڑنا ۔ اس کے بعد 33مرتبہ کلمہ طیبہ کا ورد کرلیں۔ اس بات کی نیت کرلیں۔ اس کلمے کی بدولت میرے اوپر جو قرض ہے جس کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوں۔ مجھے اس سے نجات دلا دے۔ آپ پھنسا نہیں بلکہ دھنس گیا ہو۔ پھنساہوا بندہ تو نکل آتا ہے۔ لیکن دھنسا ہوابند ہ نہیں نکل سکتا ۔اللہ پاک آپ کو پھر بھی نکا ل لے گا۔ اگر آپ قرضے میں اس طرح دھنس گئے۔ یعنی حد سے زیادہ دھنس گئے ہیں۔ اتنا بوجھ اتنالوڈ قرضے کا ۔ آپ کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا۔ اللہ ایسا انتظام کرے گا۔آپ کےذہن و گمان میں نہیں ہوگا۔ یہ قرضہ ختم ہوجائےگا۔ آپ نے یہ وظیفہ اکتالیس دن پابندی سے کرنا ہے۔ آپ کا وظیفہ دس دن میں ختم ہوجاتاہے۔ تب بھی آپ نے اکتالیس دن میں کرناہے۔ اگر پندرہ ،بیس یا جب بھی ختم ہوجائے۔ آپ نے اس وظیفے کو جاری رکھنا ہے۔ ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ کرناہے۔ آپ نے اکتالیس دن تک یہ وظیفہ کرلیا۔ قرضہ ختم نہ ہوا۔ اور کچھ یقین پیدا ہوگیا۔اور اطمینا ن ہوجائےگا۔

اب میرا قرضہ ہوجائے گا۔ اس وظیفے کی چھوٹی سی ترتیب بدل لینی ہے۔ آپ نے اس کلمے کا ذکر ایک سو مرتبہ کرلیناہے۔ ایک ہی وقت میں یا جس وقت آپ کو سہولت ہو۔ کسی نماز کے ساتھ ہو یا علاوہ ہو۔ سومرتبہ کو جو وظیفہ ہے پھر اس کو ساری زندگی جاری رکھنا ہے۔اس کا کیا فائدہ ہوگا۔ جب آپ اس کو سو مرتبہ روزانہ پڑھیں گے۔ عرش کے اوپر ایک ستون ہے۔ وہ ہلنے لگ جائے گا۔ اللہ دریافت کرنے کے باوجود پوچھیں گے تجھے کیا ہوا تونے ابھی تک ہلنا کیوں نہیں چھوڑا ۔ وہ ستوں بولے گا اللہ ا س کو گویائی عطافرمائے گا۔ فلاں بن فلاں نے کلمے کا ذکر کیا۔ اس کی بخشش بھی نہیں ہوئی۔ اس کی پریشانی بھی حل نہیں ہوئی۔ اس کا قرضہ بھی ختم نہیں ہوا۔ اللہ پاک اپنی نورانی مخلوق سے کہیں گے۔ تم گو اہ رہو اور میں نے اسے بخش بھی دیا۔ اس کی پریشانیوں کو بھی دور کردیا۔ اور اس کے قرضوں کابھی انتظام کردیا۔ یہ ایک ایسا طاقت ور وظیفہ ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

 

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *