”رات کو بیوی کو جگانا کیوں ضروری ہے ؟ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:“

الفاظ کی نسبت خاموشی زیادہ وضاحت رکھتی ہے اور خاموشی میں کبھی منافقت نہیں ہوتی۔ جہاں لگے اہمیت کم ہورہی ہے وہاں جانا کم کردو، پھر چاہے کسی کا گھر ہو، بات ہو، یاد ہو، یادل ۔کوشش کرو سب کچھ ٹوٹ جائے پر وہ مان نہ ٹوٹے جوکسی بہت اپنے نے خود سے زیادہ آپ پر کیا ہو۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ (رات میں ) بیدار ہوئے اور فرمایا: سبحان اللہ ! کس طرح رحمت کے خزانے نازل کئے گئے ہیں اور کس طر ح فتنے نازل کئے گئے ہیں ۔

کون ہے جوان حجرہ والیوں کو جگائے ۔ آنحضور ﷺ کی مراد ازوج مطہران سے تھی، تاکہ وہ نماز پڑھ لیں۔ کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ن نگی ہوں گی او ر اب ابی ثور نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ آنحضور ﷺ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے ؟ آنحضور ﷺ نے کہا کہ نہیں ۔ میں نے کہا اللہ اکبر!(صیحح بخاری )۔

اگر تم تنہاء ہو اور وقت کے دل شکن لمحات تمہارے دل کے محسوسات کو پامال کررہے ہیں تو کیا ہوا؟ تم اس دنیا میں اکیلے آئے تھے ، اکیلے ہی جاؤ گے ۔ جب قدرت نے تمہیں اکیلا ہی تخلیق کیا ہے تو پھر تنہائی سے کیوں گھبراتے ہو۔ اک تیرے کن کے یقین پر میں نے مانگی ہیں

بہت دعائیں یا رب۔ کسی سے اپنا موازنہ مت کریں ، کم پہن لیں، سستا پہن لیں، سادہ کھائیں لیکن حلال کھائیں۔ کم میں نہیں حر ام میں شرم کریں۔ ہم نے اللہ کو حساب دینا ہے لوگوں کو نہیں ۔ ان لوگوں پرزیادہ توجہ دو جو تالیاں نہیں مارتے جب تم جیتتے ہو۔ جب ہم اپنی پسند کی اشیاء سے محروم ہوں تو موجودہ اشیاء ہی کو پسند کر لینا چاہیے۔

دنیا کی ساری چیزیں ٹھوکر لگنے سے ٹوٹ جاتی ہیں مگر صرف انسان وہ چیز ہ جو ٹھوکر لگنے کے بعد بنتا ہے۔ سماج میں مسلمان ہونا آسان ہے لیکن تنہائی کا مسلمان ہونا مشکل ہوتاہے۔ اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیاتو یقیناً تم نے دنیا کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:انسان مال جمع کرتا ہے، اس کے بینک بھرے رہتے ہیں اور دل خالی رہتا ہے ۔

زندگی میں دو اصول بنالیں دشمن بھی سلام کریں گے ایک اپنی ذات کی قدر کبھی کسی بھی حال میں کم نہ ہونے دیں۔ اور دوسروں کی عزت کا خیال ہر صورت رکھیں۔ کسی کو پانے کے لیے ہماری تمام خوبیاں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔ اور کھونے کےلیے ایک غلط فہمی ہی کافی ہے۔ تقریباً اٹھارہ ہزار مخلوقات میں سے صرف انسان ہی پیسہ کماتا ہے کوئی مخلوق کبھی بھوکی نہیں رہتی اور انسان کا کبھی پیٹ نہیں بھرتا۔

صرف ایک شخص ہی تمہیں کامیاب کرسکتا ہے اور وہ ہو تم خود۔ آپ کی محنت سے اگر کسی کو کوئی فائدہ ہورہا ہے لو پھر بہت اچھی بات ہے لیکن اگر کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا تو پھر اس محنت سے پیچھے ہٹ جائیے۔ چھین کرکھانے والوں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اوربانٹ کر کھانے والے کبھی بھوکے نہیں رہتے۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.