حضرت آدم علیہ السلام اور استقبال مصطفیٰﷺ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات پہلے آسمان پر جب اس کے دروازے کو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے سوال و جواب کے بعد کھولا گیا تو سرکاردوعالم ﷺ نے فر ما یا جب آسمان کا دروازہ کھلا تو میں نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا تو انہوں نےمجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر فرمائی۔ (مسلم شریف بحوالہ انوار الحدیث ص 362)

جب حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت حوا علیہا السلام کے پاس جانا چاہا تو فرشتوں نے کہا کہ اے آدم ! ٹھہر جائیے۔ حضرت علیہ السلام نے فرمایاکیوں؟ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے لیے ہی پیداکیا ہے ۔

فرشتوں نے کہا! مہر ادا کرنے سے پہلے آپ نے ان کے قریب نہیں جاسکتے ۔ پوچھا ! ان کا مہر کیا ہے ؟ فرشتوں نے جواب دیا! تین مرتبہ حضرت محمد ﷺ پر درودپاک بھیجیں۔ (المواہب الدنیا جلد اول مترجم باب مقدمہ ص واقعہ معراج اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو چشم زدن میں بظاہر رونما ہوا لیکن حقیقت میں اس میں کتنا وقت لگا یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔

اللہتعالیٰ نے اس واقعہ میں اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی قدرت کاملہ کا مشاہدہ کرایا۔ واقعہ معراج اعلان نبوت کے دسویں سال اور مدینہ ہجرت سے ایک سال پہلے مکہ میں پیش آیا۔ ماہ رجب کی ستائیسویں رات ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے۔

اے فرشتو! آج کی رات میری تسبیح بیان مت کرو میری حمدو تقدیس کرنا بند کردو آج کی رات میری اطاعت و بندگی چھوڑ دو اور آج کی رات جنت الفردوس کو لباس اور زیور سے آراستہ کرو۔ میری فرمانبرداری کا کلاہ اپنے سر پر باندھ لو۔ اے جبرائیل! میرا یہ پیغام میکائیل کو سنا دو کہ رزق کا پیمانہ ہاتھ سے علیحدہ کردے۔ اسرافیل سے کہہ دو کہ وہ صور کو کچھ عرصہ کے لئے موقوف کردے۔

عذرائیل سے کہہ دو کہ کچھ دیر کے لئے روحوں کو قبض کرنے سے ہاتھ اٹھالے۔ رضوان سے کہہ دو کہ وہ جنت الفردوس کی درجہ بندی کرے۔ مالک سے کہہ دو کہ دوزخ کو تالہ لگادے۔ خلد بریں کی روحوں سے کہہ دو کہ آراستہ و پیراستہ ہوجائیں اور جنت کے محلوں کی چھتوں پر صف بستہ کھڑی ہوجائیں۔

مشرق سے مغرب تک جس قدر قبریں ہیں ان سے عذاب ختم کردیا جائے۔ آج کی رات (شب معراج) میرے محبوب حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے تیار ہوجاؤ۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.