جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

معروف مذہبی سکالرمولاناطارق جمیل نےاپنے ایک بیان میں کہاکہ جس شخص کی بیوی اس سے بغیرکسی شرعی وجہ کے ناراض ہواورخاوندکوناراض کرکے وہ رات گزاررہی ہے توساری رات اس پراللہ کی لعنت برستی رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مردکوعورت کاذمہ دارٹھہرایاہے کیونکہ کسی کی بیٹی کولے کر جاناکوئی چھوٹی بات نہیں۔

شریف زادیوں کی جہاں ڈولی اترتی ہے وہیں سے ان کے جنازےنکلتے ہیں۔گھٹ گھٹ کرمرجانااس کی سرشت میں ہوتاہے۔طلاق ہمارے ہاں ایک لعنت ہے اگرگزارہ نہیں ہوتاتوبھی کرگزارہ۔ایسے موقعوں کےلیے تواللہ تعالیٰ نے جدائی کاراستہ رکھاہے۔میں اپنے گائو ں میں تھاتوایک بچی اپناچھوٹابچہ اٹھائے رات کوآئی میں نے پوچھاکہ کہاں سے آئی ہوتواس نے کہاکہ فلاں جگہ سے آئی ہوں۔ میں نے کہاکہ کیاکرنے آئی ہوتواس نے کہاکہ مجھے میرے خاوندسے بچائومجھے طلاق دلوادو۔میں نے کہاکہ بیٹی اپنے ماں باپ سے کہومیرے پاس کیاکرنے آگئی ہو۔لڑکی نےکہاکہ وہ کہتے ہیں کہ اگرتونے طلاق لی توہم تمہیں قتل کردیں گے۔اورمیراخاوندروزانہ مجھے مارتاہےآج تک کسی دن بھی ناغہ نہیں کیا۔اللہ کے واسطے میری جان بچائو میں نے کہابیٹی میں کیاکرسکتاہوں میرے پاس آنسوئوں کے سواکچھ بھی نہیں۔میں تیرے لیے دعاکرسکتاہوں روسکتاہوں اورمیں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔میں تمہارے خاندانی معاملات میں کیسے دخل دوں ہاں اگرمیراتمہارے ساتھ کوئی رشتہ ناطہ ہوتاتومیں دخل دیتامیں تمہیں جانتاہی نہیں تم کون ہو۔ میں نے اس کے کہنے پراس کے بھائی سے بات کی اورکہاکہ بھائی اپنی بہن کاکچھ خیال کروآگے میں نے کچھ نہیں کہا۔انہوں نے مزیدکہاکہ یہ میرے معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق تنگی رزق سے ہر کوئی عاجز ہوتا ہے .اگر کوئی مسلمان یہ چاہے کہ اسکو کثیر رزق عطا ہوتو اسکو دعائے جبرائیل ؑ پڑھنی چاہئے .یہ دعااللہ کریم نے اپنے محبوب نبیﷺ کو حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے سکھائی تھی اور سب سے پہلے سرکار دوجہاں ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو عطا کی تھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں اس دعا کا ذکر موجود ہے.ایک روز آپؓ نے شدید فقر و فاقہ کی وجہ سے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ایک ماہ ہو گیا گھر میں چولہا جلانے کی نوبت تک نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو تو پانچ بکریاں دے دوں اور چاہو تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی ایک دعا سکھائی ہے بتا دوں۔ یہ دعا پڑھو. یَااَوَّلَ الاَوَّلِینَ یَااٰخِرَ الاٰخِرِینَ‘ ذَاالقُوَّةِ المَتِینِ‘ وَ یَارَاحِمَ المَسَاکِینَ‘ وَیَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ حضرت اویس قرنی کون ہیں ۔اویس نام ہے عامرکے بیٹے ہیں مرادقبلہ ہے قرن انکی شاخ ہے اوریمن انکی رہائش گاہ تھی ۔حضرت نے ماں کے حددرجہ خدمت کی ۔وہ آسمانوں تک پہنچی اویس قرنی حضورکی خدمت میں حاضرنہیں ہوسک

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.