جب ابو ذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے با رے میں معلوم ہوا

جب ابو ذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے با رے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آ سمان سے خبر آ تی ہے میرے لیے خبریں حاصل کر کے لا۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر نبی کر یم ﷺ کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے ابو ذر کو بتا یا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے۔ اس پر ابو ذر نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی ، آخر انہوں نے خود توشہ با ند ھا پانی سے بھر ا ہوا ایک پر ا نا مشکیزہ سا تھ لیا اور مکہ آ ئے ، مسجد الحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم ﷺ کو تلاش کیا ۔ ابو ذر نبی کریم ﷺ کو پہچا نتے نہیں تھے۔

اور کسی سے آپ ﷺ کے متعلق پوچھنا بھی منا سب نہیں سمجھا ، کچھ رات گزر گئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے۔ علی نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے ۔ علی نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آ رام کیجئے۔ ابو ذر ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی ۔ جب صبح ہوئی تو ابو نے اپنا مشکیزہ اور توشہ ا ٹھا یا اور مسجد الحرام میں آ گئے۔ یہ دن بھی یو نہی گزر گیا اور وہ نبی کریم ﷺ کو نہ دیکھ سکے۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کر نے لگے۔ علی پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آ یا ، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آ ئے اور آ ج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی ، تیسرا دن جب ہوا اور علی نے ان کے ساتھ یہی کا م کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آ نے کا باعث کیا ہے؟ ابو ذر نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری راہ نما ئی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا۔۔ علی  نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی خبر دی۔ علی  نے فر ما یا کہ بلا شبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا۔

اگر میں (راستے میں ) کوئی ایسی بات دیکھوں گا جس سے مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہو تو میں کھڑ ا ہو جاؤں گا۔ (کسی دیوار کے قریب) گو یا مجھے پیشاب کر نا ہے، اس وقت تم میرا انتظار نہ کر نا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جا نا تا کہ کو ئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جا نا، انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تا کہ علی  کے ساتھ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ آپ کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آ ئے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فر ما یا کہ اب اپنی قو م غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتا ؤ تا جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے ( تو پھر ہمارے پاس آ جانا) ابو ذر  نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔ چنا نچہ نبی کریم ﷺ کے یہاں سے واپس وہ مسجد الحرام میں آ ئے اور بلند آ واز سے کہا کہ “میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔” یہ سنتے ہی سارا مجمع ان پر ٹوٹ پڑ ا اور انہیں اتنا ما را کہ زمین پر لٹا دیا اتنے میں عباس  آ گئے اور ابو ذر  کے اوپر اپنے آپ کو ڈال کر قریش سے کہا افسوس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے اس طرح سے ان سے ان کو بچا یا۔ پھر ابو ذر  دوسرے دن مسجد الحرام میں آ ئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا۔

 

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *