ایک شخص نے خواب میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا

ابن ابی الدنیا علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے خواب میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھا، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرما رہے تھے کہ بغداد میں فلاں مجوسی سے جا کر کہو کہ تیری دعا قبول ہوگئی ہے۔ تو یہ شخص کہتا ہے کہ میں بیدار ہو کر سوچنے لگا کہ میں بغداد کیسے جاؤں؟

اسی سوچ و بچار میں پورا دن نکل گیا اور میں سو گیا۔ دوسری رات بھی یہی خواب دیکھا۔ جب تیسرے دن بھی یہی خواب نظر آیا تو میں نے سواری لے کر بغداد کا رخ کیا اور اسی مجوسی کے پاس پہنچ گیا اور اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ وہ بہت مالدار تھا اس نے پوچھا: کوئی ضرورت ہے؟

میں نے کہا: اکیلے میں بتاؤں گا۔ تو کچھ لوگ چلے گئے اور اس کے چند ساتھی رہ گئے۔ میں نے کہا: انہیں بھی باہر بھیج دو۔ تو وہ بھی باہر چلے گئے تو میں نے کہا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قاصد ہوں۔ انہوں نے تمہیں پیغام بھیجا ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگئی ہے۔

مجوسی نے حیرت سے پوچھا: کیا تو مجھے جانتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! اس نے کہا کہ میں تو اسلام اور محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کا منکر ہوں۔ میں نے کہا کہ تم اس طرح کہہ رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے؟ اس نے کہا: کیا میرے پاس بھیجا ہے؟

میں نے کہا ہاں! تو اس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں۔ پھر اس نے اپنے ساتھیوں کو بلایا اور کہا کہ میں گمراہی میں تھا اور اب حق کی طرف لوٹ آیا ہوں تم میں سے جو شخص اسلام لائے گا میرے مال میں سے اس کو حصہ ملے گا اور جو اسلام نہیں لائے گا اس کو میرا مال واپس کرنا ہوگا۔ تو اس کے ساتھیوں میں سے اکثر لوگ اسلام لے آئے۔

پھر اس نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا کہ بیٹا! میں گمراہی میں تھا اب حق کی طرف لوٹ آیا ہوں، اب تم بتاؤ کیا چاہتے ہو؟ بیٹے نے کہا: میں بھی اسلام لاتا ہوں۔ پھر اس نے اپنی بیٹی کو بلایا اور اسے بھی دعوت ِاسلام دی، وہ بھی اسلام لے آئی۔پھر اس نے مجھ سے کہا: کیا تجھے معلوم ہے وہ دعا کیا تھی جو قبول ہوگئی؟ میں نے کہا نہیں۔

تو اس نے بتایا کہ جب میں نے اپنے بیٹے کی شادی کی تو دعوت کا اہتمام کیا اور طرح طرح کے کھانے بنائے۔ میرے پڑوس میں سادات میں سے کچھ غریب لوگ رہتے تھے۔ میں لوگوں کو کھلانے کے بعد تھک گیا تو میں نے خادم کو کہا کہ اوپر کی منزل میں میرا بستر لگا دو میں سونا چاہتا ہوں۔

جب میں سونے گیا تو میں نے پڑوس کی ایک بچی کی آواز سنی وہ کہہ رہی تھی کہ اماں جان! اس مجوسی نے اپنے کھانے کی خوشبو سے ہمیں تکلیف پہنچائی ہے۔ یہ سن کر میں نیچے آیا اور ان کے لیے بہت سا کھانا بھیجا اور ساتھ کچھ دینار اور کپڑے بھی بھیجے تو ان بچیوں میں سے ایک نے کہا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تیرا حشر ہمارے ساتھ کرے اور باقی لوگوں نے آمین کہی تو آج وہ دعا قبول ہو گئی۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.