چھ چیزوں سے پہلے مرجانا بہتر ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ جب تمہارے سامنے چھ چیزیں ظاہر ہونے لگیں تو تمہارے لیے دنیا میں زندہ رہنے سے م وت بہتر ہوگی۔ حضرت عبس غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : وہ فرماتے ہیں ۔ کہ میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چھ چیزوں پر م وت کے ذریعہ سبقت کر جاؤ یعنی ان سے پہلے مرجاؤ۔ پہلی بے وقوفوں اور نااہلوں کی امارت اور سربراہی پر ، دوسری پولیس کی کثرت پر ، تیسری فیصلہ کی فروختگی پر یعنی کے بقاؤ فیصلے پر ، چوتھی خ ون ریز ی کو معمولی سمجھے جانے پر، پانچویں رشتہ ناتا توڑے جانے پر اور چھٹی ایسی نسل پر جو قرآن کریم کو باجاگانا بنا ئے گی۔

وہ تلاوت کرنے والے کو آگے کریں گے جوان کو قرآن گانے کی لے میں سنائے گا۔ اگرچہ وہ دین کے فہم میں ان سے کم ترہوگا( مگر محض خوش الحانی کی وجہ سے آگے بڑھایا جائے گا)۔ اس حدیث پاک میں جناب رسالت مآب ﷺ نے چھ ( قسم کی تباہ کن چیزوں کی پیش گوئی فرمائی ہے ۔ جن سے امت کا حال بد سے بد تر ہوجائے گا، معاشرہ نہایت خراب ہوجائے گا، اسلام کا پورا حلیہ بدل جائے گا۔ اس وقت کے لیے آپ ﷺ نے فرمایا: کہ ایسی زندگی سے م وت بہتر ہوجائے گی۔

آنحضرت محمد ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جس میں نااہل اور نادان لوگ حاکم سربراہ ہوں گے ، ان کی امارت وحکومت میں زندہ رہنے سے م و ت بہتر ہوگی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی یا فرمایا قریب ہے کہ ایک ایسا دور آئے گا اس میں لوگ الگ الگ کردیئے جائیں گے (اچھے برے الگ الگ ہوجائیں گے) رزیل قسم کے لوگ باقی رہ جائیں گے ان کے عہد وپیمان اور امانتیں ختم ہوجائیں گی

اور آپس میں اختلاف ہوجائے گا اور وہ اس طرح ہوجائیں گے آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈالا۔ پس صحابہؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس حالت میں آپ ﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا جو احکام تمہیں معلوم ہیں انہیں اختیار کرو اور تمہیں معلوم نہیں چھوڑ دو اور تمہارے جو خاص لوگ ہیں ان کے امر کی فکر کرو اور تمہارے جو عام لوگ ہیں ان کے امر کو چھوڑ دو۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار (صفات) جس شخص میں ہوں

وہ خالص من افق ہے اور جس میں ان میں سے ایک صفت ہو اس میں نفاق کا ایک حصہ ہے حتی کہ اس (عادت) کو چھوڑ دے ۔جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، جب عہدو پیمان باندھے تو اسے توڑ دے اور جب کوئی جھ گڑا وغیرہ ہوجائے تو گ الی گلوچ پر اتر آئے

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.